data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(بزنس رپورٹر)گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہ مالی سال 2026 میں ترقی کی شرح 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ملکی معیشت مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے، ہمارا عزم ہے کہ استحکام برقرار رکھا جائے، زرمبادلہ ذخائر مضبوط کیے جائیں اور مہنگائی کو 5 تا 7 فیصد کے ہدف کے دائرے میں رکھا جائے۔کراچی میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے پاکستان کی مجموعی معاشی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ اجلاس میں کونسل کے ارکان نے برآمدات کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان نے 2022 کے بعد بے مثال اقتصادی چیلنجز پر قابو پا لیا ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر جو 2023 کے آغاز میں صرف 2.

8 ارب ڈالر تھے، اب بڑھ کر 14.3 ارب ڈالر ہوچکے ہیں۔جاری کھاتے کا خسارہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے جبکہ ترسیلات زر مالی سال 2025 میں 38 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں جو زیادہ تر غیر رسمی ذرائع سے رسمی چینلز کی طرف منتقل ہوگئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی بڑھنے کی شرح جون 2025 تک تاریخی طور پر کم ترین سطح 3.2 فیصد تک گرگئی ہے جس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کردیا۔ مالیاتی استحکام، ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات اور بیرونی قرضوں کی مستحکم سطح نے مارکیٹوں میں اعتماد پیدا کیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر قائم ہے اور مالی سال 2026 میں ترقی کی شرح 3.25 فیصد سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور نے گورنر کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برآمد کنندگان کے سامنے موجود ساختی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنا ہوگا۔فواد انور نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام کے باوجود پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت غیر مسابقتی ہے اور ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم سے ضروری خام مال کی غیر شمولیت نے برآمد کنندگان پر اضافی بوجھ ڈالا ہے۔انہوں نے درآمدی محصولات ختم کرنے، سیلز ٹیکس 3–5 فیصد تک محدود اور مکمل طور پر قابل واپسی رکھنے، یکساں 1 فیصد ڈیوٹی بیک اسکیم متعارف کروانے اور سبسڈی یافتہ مالی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے پاکستان کی ویلیو ایڈیڈ برآمدات کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔فواد انور نے زور دیا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور اب وقت ہے کہ جرات مندانہ پالیسی اقدامات کیے جائیں تاکہ صنعت طویل مدتی عالمی مارکیٹ میں حصہ حاصل کر سکے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک پاکستان کی کی معیشت کہا کہ

پڑھیں:

سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد

لندن، لاہور (نمائندہ خصوصی، خصوصی نامہ نگار) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور برطانیہ کے نئے وزیر تجارت مقرر ہوگئے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انس سرور کو وزیر تجارت مقرر کر دیا ہے۔ وہ اپنی نئی تقرری کے بعد ہاؤس آف لارڈ کے ممبر بھی بن جائیں گے۔ انس سرور کو برطانیہ کے تینوں ہاؤسز کا ممبر بننے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے، وہ اس سے پہلے برطانوی سیاست میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ برطانیہ بھر میں پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ