data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251003-01-9

کراچی (اسٹاف رپورٹر) فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے باہر صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا، جس میں سیکڑوں مرد و خواتین شریک ہوئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے
تھے جن پر صمود فلوٹیلا کی حمایت اور اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔احتجاجی مظاہرے سے ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو، جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، میجر (ر) قمر عباس، پیپلز پارٹی کے ارشد نقوی، جمعیت علمائے پاکستان کے علامہ عقیل انجم قادری، علامہ قاضی احمد نورانی، مسلم لیگ ن کے پیر ازہر علی شاہ ہمدانی، سابق ایم این اے محمد حسین محنتی، مجلس وحدت مسلمین کراچی کے صدر علامہ صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، مرکزی مسلم لیگ کے فیصل بلوچ، اے این پی کے یونس بونیری، پی ٹی آئی کی عرم بٹ، پاکستان نظریاتی پارٹی کے حمزہ نقوی، مسیحی رہنما پاسٹر ایمانوئیل، وکلاء رہنما حسیب جمالی، ہیومن رائٹس کونسل کے جمشید حسین اور فلسطین فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ صرف فلسطینی عوام کا حق ہے اور امریکہ کسی صورت یہ اختیار نہیں رکھتا۔ انہوں نے اسرائیل کو ناجائز اور غاصب ریاست قرار دیا اور اسلامی و عرب حکومتوں سے غزہ کے دفاع کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ٹرمپ پلان کی حمایت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے بیان واپس لینے اور قائداعظم و علامہ اقبال کے مؤقف کی تجدید پر زور دیا۔اس موقع پر شرکاء نے “امریکہ مردہ باد”، “اسرائیل نامنظور” اور “فلسطین کی آزادی” کے نعرے لگائے۔ مظاہرے میں عبد الوحید یونس، یاور عباس، ابراہیم چترالی، اعجاز فضل، مفتی محمد سعید، نسرین حسین، جبین عالم، فرید میمن، قاضی زاہد حسین سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت