امریکی کمپنی کا پاکستان میں مینوفیکچرنگ بند کرکے ڈسٹری بیوٹر ماڈل پر منتقل ہونے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
امریکی ملٹی نیشنل کمپنی پروکٹر اینڈ گیمبل (P&G) نے پاکستان میں اپنی مینوفیکچرنگ اور کمرشل سرگرمیاں بتدریج ختم کرنے اور ملک میں اپنے کاروبار کو ڈسٹری بیوٹر ماڈل کے تحت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدام پی اینڈ جی کی عالمی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ترقی کی رفتار بڑھانا اور ویلیو کریشن کو تیز کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی کمپنی کے ساتھ تیل و گیس شراکت داری، پشاور بلاک کی بحالی پر اہم پیشرفت
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی کمپنیپروکٹر اینڈ گیمبل نے اپنے بیان میں کہا کہ پی اینڈ جی پاکستان اور گلٹ (Gillette) پاکستان لمیٹڈ کی مینوفیکچرنگ سرگرمیاں مرحلہ وار کم کی جائیں گی جبکہ صارفین کو خطے کی دیگر آپریشنز کے ذریعے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہ منتقلی کئی ماہ پر محیط ہوگی جس دوران معمول کے مطابق کاروبار جاری رہے گا۔
پی اینڈ جی نے واضح کیا کہ اس فیصلے میں سب سے پہلی ترجیح ملازمین کو دی جائے گی۔ ایسے ملازمین جن کی ملازمتیں متاثر ہوں گی، انہیں یا تو بیرونِ ملک کمپنی کے دیگر آپریشنز میں مواقع فراہم کیے جائیں گے یا پھر مقامی قوانین اور کمپنی کی پالیسیوں کے مطابق معاوضہ پیکیج دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی کمپنی پاکستان کے ’ پنک ہمالین سالٹ‘ پر سرمایہ کاری کرے گی
یاد رہے کہ پی اینڈ جی نے 1991 میں پاکستانی مارکیٹ میں قدم رکھا اور ملک کی بڑی کنزیومر گُڈز کمپنیوں میں شامل ہو گئی۔ تاہم، کمپنی نے اس فیصلے کی بنیادی وجوہات میں پاکستان کی معاشی مشکلات، منافع کی ترسیل پر پابندیاں اور کمزور ڈیمانڈ کو قرار دیا ہے۔
اس سے قبل جون میں پی اینڈ جی نے اپنے عالمی اسٹرکچر کی ازسرنو تشکیل کا اعلان کیا تھا، جس میں 7 ہزار تک ملازمتوں میں کمی اور مصنوعات کے پورٹ فولیو کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں فوری سرمایہ کاری کی ہدایت دی، وزیرِ اعظم شہباز شریف
ادھر گلٹ پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی اینڈ جی کے فیصلے کے بعد بورڈ کا اجلاس جلد بلایا جائے گا جس میں کاروبار کے مستقبل سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے، جن میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے ممکنہ طور پر ڈیلِسٹ ہونا بھی شامل ہے۔
کمپنی کے مطابق مختلف آپشنز پر غور کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پاکستان میں صارفین کو سہولت دینے کا سب سے مناسب طریقہ تیسرے فریق کے ڈسٹری بیوٹر ماڈل کے تحت کام کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
P&G امریکا پاکستان ڈسٹریبیوشن ملٹی نیشنل کمپنی مینوفیکچرنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاکستان ڈسٹریبیوشن ملٹی نیشنل کمپنی مینوفیکچرنگ امریکی کمپنی پاکستان میں پی اینڈ جی کمپنی کے کے مطابق
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔