ملٹی نیشنل کمپنی پروکٹر اینڈ گیمبل (P&G) نے اپنے عالمی ری اسٹرکچرنگ پلان کے تحت پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

کمپنی کی ذیلی ادارہ گلیٹ پاکستان لمیٹڈ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو جاری نوٹس میں بتایا کہ پی اینڈ جی اپنی مینوفیکچرنگ اور کمرشل سرگرمیاں پاکستان میں بند کر کے تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹر ماڈل کے ذریعے صارفین کو خدمات فراہم کرے گی۔

Procter & Gamble's exit – another red flag for investment climate

Procter & Gamble’s decision to leave Pakistan underscores a deeper truth: doing business here has become increasingly unviable — not just for multinationals, but for investors of all kinds.

When global giants… pic.twitter.com/D5NQhWqxMv

— Asad Ali Shah (@Asad_Ashah) October 2, 2025

کمپنی کے مطابق منتقلی کا عمل کئی ماہ پر محیط ہوگا اور اس دوران کاروبار معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ اس فیصلے سے متاثرہ ملازمین کو یا تو دیگر ممالک میں مواقع فراہم کیے جائیں گے یا پھر مقامی قوانین کے مطابق علیحدگی پیکجز دیے جائیں گے۔

گلیٹ پاکستان لمیٹڈ نے مزید کہا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کمپنی کو پی ایس ایکس سے رضاکارانہ طور پر ڈیلِسٹ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

 90 فیصد سے زائد حصص رکھنے والی Series Acquisition B.V باقی تمام حصص خریدنے کے لیے اقدامات کرے گی، جس کے بعد ڈیلِسٹنگ کی کارروائی مکمل کی جائے گی۔

معاشی ماہرین نے پی اینڈ جی کے انخلا کو پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول کے لیے تشویشناک قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قومی اے آئی پالیسی سے معیشت بڑھے گی، لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی

سابق صدر انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان اسد علی شاہ کے مطابق، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا پاکستان سے انخلا ملک میں پالیسیوں کے عدم تسلسل، کرنسی کے خطرات اور ریگولیٹری مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی اینڈ جی کا فیصلہ ایک وارننگ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے سنجیدگی سے لیں گے؟

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں کریم اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں اپنی سرگرمیاں معطل یا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ گزشتہ 3 برسوں میں 55 سے زائد اسٹارٹ اپس یا تو بند ہو گئے یا اپنے بزنس ماڈل میں بڑی تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

P&G پروکٹر اینڈ گیمبل پی اینڈ جی گلیٹ پاکستان لمیٹڈ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پروکٹر اینڈ گیمبل پی اینڈ جی پاکستان میں پی اینڈ جی کے مطابق

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا