ملٹی نیشنل کمپنی پراکٹر اینڈ گیمبل کا پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور کمرشل آپریشن بند کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 اکتوبر2025ء ) معروف ملٹی نیشنل کمپنی پراکٹر اینڈ گیمبل (P&G) نے پاکستان میں آپریشن بند کرنے کا اعلان کردیا۔ پروپاکستانی کے مطابق عالمی کمپنی پراکٹر اینڈ گیمبل (P&G) نے اعلان کیا ہے کہ وہ جیلٹ پاکستان سمیت یہاں اپنے مینوفیکچرنگ اور کمرشل آپریشنز کو ختم کردے گی، کمپنی اس کے بجائے پاکستانی صارفین کی خدمت جاری رکھنے کے لیے تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹر ماڈل پر چلے گی، یہ فیصلہ ترقی کو تیز کرنے اور مزید قدر پیدا کرنے کے لیے کمپنی کی عالمی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت تک معمول کے کاروبار کو جاری رکھا جائے گا جب تک کہ منتقلی مکمل نہیں ہو جاتی، اس عمل میں کئی ماہ بھی لگ سکتے ہیں، تاہم منتقلی کی منصوبہ بندی فوری طور پر شروع ہو جائے گی جس میں بنیادی توجہ اپنے ملازمین کی مدد پر مرکوز ہے، وہ عملہ جن کے کردار متاثر ہوں گے انہیں پاکستان سے باہر کمپنی کے دیگر آپریشنز میں مواقع کے لیے غور کیا جائے گا یا وہ مقامی قوانین اور کمپنی کی پالیسیوں کے مطابق علیحدگی کے پیکج حاصل کریں گے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ کئی آپشنز کا جائزہ لینے کے بعد P&G نے نتیجہ اخذ کیا کہ تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹر کے ساتھ کام کرنا اس کی مصنوعات کو پاکستان میں دستیاب رکھنے کا سب سے زیادہ عملی طریقہ ہے، کمپنی نے اپنے ملازمین، شراکت داروں اور صارفین کا گزشتہ برسوں کے دوران تعاون کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’ان تمام سالوں میں آپ کی مدد کے لیے آپ کا شکریہ جس نے پاکستان میں P&G کو جہاں تک ہم کر سکتے تھے لے جانے میں ہماری مدد کی ہے‘۔ معلوم ہوا ہے کہ جیلیٹ ایل ایل سی نے جیلیٹ پاکستان لمیٹیڈ اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو پراکٹر اینڈ گیمبل کے پاکستان میں اپنے کاروباری آپریشنز کو عالمی تنظیم نو کی حکمت عملی کے تحت بند کرنے کے فیصلے کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے جس کا مقصد ترقی اور قدر کی تخلیق کو تیز کرنا ہے، کمپنی نے پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) کو ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ جیلیٹ پاکستان لمیٹید جلد ہی ملک میں اپنے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے بورڈ کا اجلاس بلائے گا۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ اس جائزے میں ضرورت پڑنے پر پاکستان سٹاک ایکسچینج سے جیلیٹ پاکستان لمیٹیڈ کی ممکنہ ڈی لسٹنگ شامل ہوگی، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام اقدامات متعلقہ قانونی اور ریگولیٹری تقاضوں کی تعمیل کرتے ہیں، پی اینڈ جی کی مصنوعات پاکستان میں دستیاب رہیں گی لیکن اب ان کی فراہمی کمپنی کی طرف سے براہ راست مینوفیکچرنگ اور فروخت کی بجائے علاقائی آپریشنز اور مقامی تقسیم کاروں کے ذریعے کی جائے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان میں کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔