ایتھوپیا میں زیر تعمیر عمارت گرگئی: 36افراد ہلاک،200زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ادیس ابابا : ایتھوپیا کے وسطی علاقے میں ایک مذہبی تہوار کے دوران زیرتعمیر عمارت گرنے سے کم از کم 36 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے۔
حادثہ ارارتی کے علاقے میں واقع مینجار شینکورا آریرٹی مریم چرچ میں اس وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں زائرین سالانہ ورجن مریم فیسٹیول میں شرکت کے لیے جمع تھے۔ چرچ کی تعمیر مکمل نہیں ہوئی تھی اور اندر موجود عارضی لکڑی کا ڈھانچہ زائرین کے وزن کے باعث زمین بوس ہو گیا۔
پولیس چیف احمد گیبیہو نے سرکاری نشریاتی ادارے فانا براڈکاسٹنگ سے گفتگو میں بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 36 ہو چکی ہے، جبکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ حادثے کے ایک عینی شاہد تادیسے تسفائے نے بتایا ”جب اسکیفولڈنگ گر گئی تو اس نے نیچے موجود افراد کو کچل کر رکھ دیا۔ کچھ لوگ جو کناروں پر موجود تھے، وہ بھاگ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے، مگر درمیان میں موجود افراد ہلاک ہو گئے۔“
واقعے کے بعد جائے حادثہ پر جوتے، چپلیں، ٹوٹے ہوئے لکڑی کے ڈنڈے اور ملبہ بکھرا ہوا نظر آیا، جبکہ چرچ کے گنبد کے نیچے اب بھی اسکیفولڈنگ کی مڑی ہوئی باقیات موجود ہیں۔
مقامی عہدیدار أتنافو آباتے کے مطابق کچھ افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ شدید زخمیوں کو دارالحکومت ایڈیس ابابا کے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی ایڈمنسٹریٹر تیشالے تیلاہون نے اس واقعے کو پوری کمیونٹی کے لیے ایک عظیم سانحہ قرار دیا ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک