امریکا میں شٹ ڈاؤن، ٹرمپ انتظامیہ نے ڈیموکریٹک ریاستوں کے اربوں ڈالر کے فنڈز منجمد کردیے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ڈیموکریٹس کی اکثریت رکھنے والی ریاستوں کے لیے مختص 26 ارب ڈالر کے فنڈز منجمد کر دیے ہیں۔
منجمد شدہ فنڈز میں سب سے بڑا حصہ نیویارک کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے مختص 18 ارب ڈالر کا ہے، جبکہ 8 ارب ڈالر کے گرین انرجی منصوبے بھی روک دیے گئے ہیں جو کیلیفورنیا، الینوائے اور دیگر 16 ڈیموکریٹک ریاستوں میں جاری تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اخراجات شٹ ڈاؤن کے دوران غیر ضروری تصور ہوتے ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹس نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اہم ماحولیاتی اور شہری ترقیاتی منصوبوں کو صرف مخالفت کی بنیاد پر نقصان پہنچا رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے نیویارک جیسے بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبے متاثر ہوں گے، جبکہ گرین انرجی کے منصوبے معطل ہونے سے ماحولیاتی اہداف اور ہزاروں روزگار کے مواقع کو بھی خطرہ لاحق ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔