’سیاست سے باز آجائیں‘، بھارتی پراپیگنڈے پر سابق کرکٹر و کمنٹیٹر ثنا میر کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
بھارت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر کھیل میں سیاست کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران کمنٹری کے دوران سابق پاکستانی کرکٹر اور موجودہ کمنٹیٹر ثناء میر کے ایک بیان کو بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا نے بے بنیاد پراپیگنڈا شروع کر دیا۔
کمنٹری کے دوران ثنا میر نے پاکستان ویمن ٹیم کی کھلاڑی نتالیہ پرویز کا تعلق آزاد کشمیر سے بتایا، جس پر بھارتی میڈیا کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور انہیں کمنٹری پینل سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرافی دینے کے لیے پہلے بھی تیار تھا، اب بھی ہوں، میرے دفتر آئیں اور ٹرافی لے لیں، محسن نقوی نے بھارتی ٹیم پر واضح کردیا
سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر ثناء میر نے اپنے خلاف چلنے والے پروپیگنڈے پر ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ معاملات کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور کھیلوں سے وابستہ افراد پر بلا وجہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ثنا میر کا کہنا تھا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ ایسی باتوں کی عوامی سطح پر وضاحت کرنا پڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری پاکستان کی ایک کھلاڑی کے آبائی شہر کے بارے میں کی گئی بات صرف اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے تھی کہ انہوں نے ایک خاص علاقے سے آ کر کن مشکلات کا سامنا کیا اور کس طرح ایک شاندار سفر طے کیا۔
It's unfortunate how things are being blown out of proportion and people in sports are being subjected to unnecessary pressure.
My comment about a Pakistan player's hometown was only meant to highlight the challenges… pic.twitter.com/G722fLj17C
— Sana Mir ثناء میر (@mir_sana05) October 2, 2025
سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر ثناء میر کا کہنا تھا کہ بطور کمنٹیٹر ہم جب کھلاڑیوں کی کہانی بیان کرتے ہیں تو یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔ میں نے آج دو دیگر کھلاڑیوں کے بارے میں بھی یہی کیا، جو دیگر علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ براہ کرم اس بات کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بطور کمنٹیٹر جو ورلڈ فیڈ پر تبصرہ کرتے ہیں، ہمارا مقصد کھیل، ٹیموں اور کھلاڑیوں پر توجہ دینا ہوتا ہے اور ان کی محنت اور جدوجہد کی متاثر کن کہانیوں کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ میرے دل میں کسی کے لیے کوئی دشمنی یا کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرافی چاہیے تو بھارتی کپتان میرے دفتر آکر مجھ سے لے لیں، محسن نقوی کا بھارتی بورڈ کو دوٹوک پیغام
اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں اسکرین شاٹ بھی منسلک کر رہی ہوں جہاں سے میں تمام کھلاڑیوں کے بارے میں تحقیق کرتی ہوں، چاہے وہ پاکستان سے ہوں یا کسی اور ملک سے۔ مجھے اندازہ ہے کہ اب وہاں تبدیلی کر دی گئی ہے، لیکن میں اسی حوالے کی بات کر رہی تھی۔
واضح رہے کہ ثنا میر پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان رہ چکی ہیں اور اب بین الاقوامی سطح پر کمنٹری کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ ان کی کمنٹری کو دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی ایشیا کپ بی سی سی آئی ثنا میر ویمن ورلڈ کپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ ویمن ورلڈ کپ کا کہنا تھا کہ کمنٹیٹر ثنا ثناء میر کے لیے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔