ایشوریا اور ابھیشیک بچن کا گوگل اور یوٹیوب کو 4 کروڑ کا قانونی نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
بالی ووڈ کے معروف اداکار جوڑی ایشوریا رائے بچن اور ابھیشیک بچن نے سرچ انجن گوگل اور ویڈیو پلیٹ فارم یوٹیوب کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں اداکاروں نے نئی دہلی ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ ڈیپ فیک اور جعلی ویڈیوز ان کی شہرت اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان ویڈیوز میں ان کے چہرے اور آواز کا استعمال براہِ راست ان کے شخصی اور تخلیقی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایشوریا اور ابھیشیک نے عدالت کو یوٹیوب پر موجود سینکڑوں لنکس اور اسکرین شاٹس بھی فراہم کیے ہیں تاکہ ثبوت کے طور پر یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ مواد جعلی اور گمراہ کن ہے۔
اداکار جوڑی کی جانب سے اس کے ساتھ ہی عدالت سے ان ویڈیوز پر مستقل پابندی عائد کرنے اور تقریباً 4 کروڑ روپے ہرجانے کی استدعا کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے گوگل کے وکیل سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
اگر آپ نے اب تک صرف فلموں اور ٹی وی سیریز میں آسمان پر اڑتے ہوئے ڈریگن دیکھے ہیں تو اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں حقیقت سے قریب ایک ایسا ہی حیرت انگیز منظر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ شہر کی فضاؤں میں ’’ہاؤس آف دی ڈریگن‘‘ کا مشہور ڈریگن سائریکس (Syrax) پرواز کرتا دکھائی دیا، جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کردیا۔
2026 کامن ویلتھ گیمز کی افتتاحی تقریب سے قبل گلاسگو کے دریائے کلائیڈ، ایس ای سی آرماڈیلو اور او وی او ہائیڈرو کے اوپر آٹھ میٹر طویل دیو ہیکل ڈریگن نے فضائی چکر لگائے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے مشہور فینٹسی سیریز کا منظر حقیقت میں تبدیل ہوگیا ہو۔
یہ فلائنگ ماڈل دراصل ’ایچ بی او‘ کی مقبول سیریز ’ہاؤس آف دی ڈریگن‘ میں رینیرا ٹارگرین کے ڈریگن سائریکس کی ہوبہو نقل ہے، جسے سیریز میں استعمال ہونے والے تھری ڈی اسکینز کی مدد سے انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں تیار کیا گیا۔
View this post on Instagramاس منفرد شاہکار کی تیاری میں 14 ماہرین نے مسلسل تین ماہ تک کام کیا اور تقریباً 3 ہزار گھنٹے صرف کیے۔ صرف 13 کلوگرام وزنی اس ڈریگن کو کاربن فائبر، ایلومینیم اور خصوصی فوم سے بنایا گیا، جبکہ اس کے پروں، سر اور دم سمیت 23 متحرک حصے اسے زندہ مخلوق جیسی حرکات کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اس کی ٹانگوں میں نصب جدید پروپلشن سسٹم نے اسے حقیقی پرواز ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
منتظمین کے مطابق یہ دنیا کا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اڑنے والا ڈریگن ماڈل ہے، جسے خاص طور پر گلاسگو 2026 کامن ویلتھ گیمز کے استقبال اور کھیلوں، جدید ٹیکنالوجی اور فینٹسی کی دنیا کو ایک ساتھ پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔
https://www.facebook.com/stvnews/videos/syrax-the-dragon-of-rhaenyra-targaryen-played-by-emma-darcy-has-been-spotted-fly/28747469711519864/واضح رہے کہ 23 جولائی سے شروع ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کی تمام مقابلے برطانیہ اور آئرلینڈ میں ایچ بی او میکس پر براہِ راست نشر کیے جائیں گے، جبکہ نشریاتی کوریج ٹی این ٹی اسپورٹس فراہم کرے گا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس بار شائقین کو جدید ٹیکنالوجی، خصوصی چینلز اور کھیلوں کے ماہرین کی بڑی ٹیم کے ساتھ ایک منفرد اور پہلے سے مختلف نشریاتی تجربہ فراہم کیا جائے گا۔
https://www.facebook.com/stvnews/videos/did-you-see-a-dragon-flying-over-glasgowa-dragon-from-game-of-thrones-prequel-ho/2166414303916270/