ڈیپ ڈپریشن کے سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان، کراچی میں بارش کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی:
شمال مشرقی بحیرہ عرب میں ڈیپ ڈپریشن بن گیا جو مزید شدت کے ساتھ اگلے 12 گھنٹوں کے دوران سمندری طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے ممکنہ طوفان سے متعلق پانچواں الرٹ جاری کر دیا جس کے مطابق ڈیپ ڈپریشن اس وقت شمال مشرقی بحیرہ عرب پر موجود ہے اور ممکنہ طوفان کراچی سے 400 کلومیٹر جنوب میں موجود ہے۔
شمال مشرقی بحیرہ عرب میں موجود دباؤ گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران مغرب اور شمال مغرب کی طرف بڑھ کر گہرے ڈپریشن میں تبدیل ہوا جبکہ گہرے ڈپریشن کے مغرب اور شمال مغرب کی طرف بڑھنے کا امکان ہے۔
اس کے بعد وسطی شمالی بحیرہ عرب میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران مغرب اور جنوب مغرب کی طرف بڑھنے اور مزید شدت کے طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
سسٹم کے زیر اثر آج کراچی، تھرپارکر، عمرکوٹ، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، مٹیاری، جامشورو کے اضلاع میں چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی شدت کی بارش کا امکان ہے۔
سندھ کے ساحل کے قریب 55 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کے سبب سمندری حالات خراب سے انتہائی خراب رہنے کا امکان ہے۔ ماہی گیروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 5اکتوبر تک گہرے سمندر میں نہ جائیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 4 اکتوبر کی شام تک سسٹم کے ارد گرد 85 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں 125 کلو میٹر فی گھنٹہ تک تجاوز کر سکتی ہیں جبکہ 3 سے 6 اکتوبر کے دوران وسطی شمالی اور شمالی بحیرہ عرب میں لہریں بہت اونچی رہنے کا امکان ہے۔
سائیکلون وارننگ سینٹرکراچی سسٹم کی نگرانی کر رہا ہے اور اس کے مطابق اپ ڈیٹ جاری کرے گا۔ متعلقہ حکام سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ پی ایم ڈی ایڈوائزری کے ذریعے ان کو باخبر رکھیں۔
بحیرہ عرب میں موجود گہرا دباؤ طوفان بننے کے بعد اس کا نام ’’سائیکلون شکتی‘‘ رکھا جائے گا۔ شکتی کے معنی طاقت ہے اور یہ نام سری لنکا کی جانب سے دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا امکان ہے میں تبدیل کے دوران
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں آندھی اور بارش؛ دیواریں و چھتیں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق
پشاور:خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث دیواریں اور چھتیں گرنے سے اب تک دو افراد جاں بحق اور 31 زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز آندھی اور بارش کے باعث آسمانی بجلی اور گھروں کی دیواریں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں دو مرد جبکہ زخمیوں میں 7 خواتین، 16 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔
مزید پڑھیںپشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریائے کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور بنوں میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور آپس میں قریبی رابطہ میں ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ بارش اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 5 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی معلومات، آگاہی یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔