حسین آبادی میوزیم — گلگت بلتستان کا سب سے بڑا نجی میوزیم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
سکردو کی حسین وادیوں کے دامن میں، شہر سے محض 3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع حسین آباد میں ایک ایسا خزانہ چھپا ہوا ہے، جو بلتستان کی تاریخ، ثقافت اور تہذیب کا آئینہ دار ہے۔
یہ ہے یوسف حسین آبادی میوزیم، جسے ایک فرد کی ذاتی محنت، جنون اور محبت نے حقیقت میں بدلا۔ اس میوزیم کو بلتستان کا سب سے بڑا نجی میوزیم قرار دیا جاتا ہے، اور یہ حقیقتاً اس خطے کی ثقافتی بقا کا قلعہ ہے۔
بانی کی لگناس میوزیم کی بنیاد معروف محقق، ادیب اور سابق سرکاری افسر یوسف حسین آبادی نے رکھی۔ انہوں نے پانچ سے چھ برسوں تک دن رات محنت کرکے قدیم اشیاء، مخطوطات، تاریخی دستاویزات، تصاویر، لوک کہانیاں اور نغمات یکجا کیے۔
ابتدا میں تقریباً 1700 نوادرات اور 700 کتابوں پر مشتمل یہ ذخیرہ آج بڑھ کر چھ ہزار سے زائد نوادرات تک پہنچ چکا ہے۔ یہ سب کچھ کسی حکومتی ادارے یا غیر ملکی فنڈنگ کے بغیر، صرف ایک شخص کے عزم اور ذاتی وسائل سے ممکن ہوا۔
نوادرات اور ذخیرہیوسف حسین آبادی میوزیم کا شمار ان چند مقامات میں ہوتا ہے جہاں بلتستان کی صدیوں پرانی جھلک ایک ہی جگہ دیکھی جا سکتی ہے۔ یہاں قدیم گھریلو استعمال کی اشیاء، زرعی آلات اور روایتی برتن محفوظ ہیں۔1947-48 کی جنگ سے متعلق تاریخی یادگاریں اور نایاب دستاویزات موجود ہیں۔
بلتی زبان کے نغمات، لوک داستانیں اور قدیم موسیقی کے آلات محفوظ کیے گئے ہیں۔
ایک بھرپور لائبریری موجود ہے جس میں پرانے مخطوطات اور نایاب کتابیں شامل ہیں۔ یہ میوزیم صرف نوادرات کا گودام نہیں، بلکہ ایک تحقیقی مرکز بھی ہے، جہاں تاریخ کو پڑھنے، سننے اور محسوس کرنے کا موقع ملتا ہے۔
اہمیت اور کرداراس نجی میوزیم کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے بلتستان کی ثقافت کو زوال سے بچایا ہے۔ مقامی طلبہ، محققین اور سیاح یہاں سے نہ صرف علم حاصل کرتے ہیں، بلکہ بلتی تہذیب کی خوبصورتی اور وسعت کو قریب سے دیکھتے ہیں۔
سکردو آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے یہ میوزیم ایک لازمی منزل بن چکا ہے، جو قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ اس خطے کی تاریخی اور ثقافتی شان سے بھی روشناس کراتا ہے۔
شریف صاحب کہتے ہیں۔ ’میں نے ان نوادرات کو گلگت بلتستان کے کونے کونے سے اکٹھا کرنے کے لیے بہت جدوجہد کی۔ میں نے حکومت سے یہ بھی درخواست کی کہ ان نوادرات کی گلگت بلتستان سے منتقلی پر پابندی لگائی جائے، کیونکہ کچھ دکانداروں نے ان چیزوں کو اسمگل کرنے میں سچائی کی۔ حکومت نے کیا لیکن بعد میں اپنے کمزور ہاتھوں کی وجہ سے کئی سمگل ہو گئے‘۔
مسٹر شریف جو بلتی زبان میں قرآن لکھنے والے دوسرے شخص ہیں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان سے حکومت سے بین الاقوامی نمائش کے لئے کہا گیا تھا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔
درپیش مسائلیوسف حسین آبادی میوزیم کی وسعت اور اہمیت کے باوجود یہ کئی چیلنجز کا شکار ہے:
1.فنڈز کی کمی: یہ مکمل طور پر ذاتی وسائل پر چل رہا ہے، جس کی وجہ سے دیکھ بھال اور توسیع مشکل ہے۔ 2. تحفظ کے مسائل: پرانی دستاویزات اور تصاویر کے لیے جدید سائنسی تحفظ کی ضرورت ہے۔ 3. حکومتی عدم توجہی: ابھی تک کوئی بڑا سرکاری ادارہ اس میوزیم کی سرپرستی یا مدد نہیں کر سکا۔
مستقبل کے امکانات: اگر حکومت، فلاحی ادارے اور تعلیمی ادارے مل کر اس میوزیم کو سہارا دیں تو یہ خطہ نہ صرف ایک شاندار ثقافتی مرکز بن سکتا ہے بلکہ عالمی سیاحت کا محور بھی۔
ڈیجیٹل آرکائیونگ اور کیٹلاگنگ سے نوادرات کو عالمی تحقیق سے جوڑا جا سکتا ہے۔
تعلیمی ورکشاپس، نمائشوں اور لوک میلے منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
مناسب تشہیر اور سہولیات فراہم کر کے یہ میوزیم سیاحتی نقشے پر ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
یوسف حسین آبادی میوزیم اس بات کی زندہ مثال ہے کہ اگر جذبہ اور خلوص ہو تو ایک فرد بھی تاریخ کو محفوظ کر سکتا ہے۔ یہ میوزیم نہ صرف بلتستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور سماجی ادارے آگے بڑھ کر اس عظیم کاوش کی سرپرستی کریں تاکہ آنے والی نسلیں اپنی تاریخ اور ثقافت سے جڑی رہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: یوسف حسین آبادی میوزیم اس میوزیم میوزیم کی یہ میوزیم سکتا ہے کے لیے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔