پشاور: گھڑی قمر دین میں دھماکے کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
— فائل فوٹو
خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں ہونے والے دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی نے درج کرلیا۔
تھانہ بماڑی کی حدود رنگ روڈ گڑھی قمر دین پر ہونے والے بارودی مواد کے دھماکے میں 4 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کوہاٹ روڈ پر گھڑی قمر دین میں بارودی مواد کا دھماکا ہوا، جس سے 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکار معمول کی گشت پر تھے، پولیس گاڑی پر قمر دین گڑھی چوک میں ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکا کیا گیا۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ دھماکے سے گاڑی میں سوار 4 پولیس اہلکار اور 4 شہری زخمی ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکار
پڑھیں:
کراچی: لانڈھی 89 کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکا، آگ بھرک اتھی
کراچی:لانڈھی 89 کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکے کے بعد لگنے والی آگ پر ایک گھنٹے سے زائدکی کوششوں کے بعد قابو پالیا گیا۔
ترجمان کے مطابق گیس سلنڈر کی دکان میں آگ گیس لیکج کے باعث لگی، دکان میں گیس جمع ہو گئی تھی اور شارٹ سرکٹ کے باعث دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ دکان میں لگی آگ پر فوم کی مدد سے 4 فائر ٹینڈرز نے قابو پایا۔
تفصیلات کے مطابق لانڈھی تھانے کے علاقے لانڈھی 89، پی ایس او پمپ کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکے کے بعد اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی اور پوری دکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ لگنے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری، ریسکیو 1122 اور فلاحی تنظیموں کے رضاکار موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے شہریوں کو جائے وقوعہ سے دور کر دیا جبکہ ریسکیو 1122 کے عملے نے فوری طور پر آگ بجھانے کی کارروائی شروع کر دی۔
ریسکیو 1122 کے عملے نے ایک گھنٹے سے زائد کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا کر کولنگ کا عمل شروع کر دیا۔ ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق آگ گیس لیکیج کے باعث لگی تھی اور شارٹ سرکٹ سے دھماکہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ آگ گیس سلنڈر کی دکان میں لگی تھی، اس لیے فوم کے ذریعے آگ پر قابو پایا گیا اور اس کارروائی میں 4 فائر ٹینڈرز نے حصہ لیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آتشزدگی کے دوران کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ترجمان کے مطابق ریسکیو 1122 کا عملہ اب بھی موقع پر موجود ہے اور ایک ایک کر کے گیس سلنڈرز کو خالی کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔