ریلویز پولیس راولپنڈی کی خاتون ایس ایچ او نے ایمانداری کی اعلی مثال قائم کر دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ریلویز پولیس راولپنڈی کی خاتون ایس ایچ او نے ایمانداری کی اعلی مثال قائم کر دی، خاتون ایس ایچ او کو رشوت پیش کرنے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ریلویز پولیس اسٹیشن راولپنڈی پر تعینات ایس ایچ او طیبہ انعم نے ملزم کو رشوت پیش کرنے پر فوری گرفتار کرلیا۔ملزم فضل نے چوری میں ملوث ملزم عمران کو چھڑوانے کی غرض سے ایس ایچ او سے غیر مناسب رویہ بھی اختیار کیا۔پیرودھائی راولپنڈی کے رہائشی ملزم کو اس عمل سے منع کرنے کے باوجود اس نے ایس ایچ او کو 28ہزار روپے رشوت پیش کی۔ خاتون ایس ایچ او نے دیانتداری اور پیشہ وارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے ملزم کو رشوت کی پیشکش پر فوری گرفتار کیا۔ریلویز پولیس کے مطابق ملزم فضل سلطان کے خلاف تھانہ ریلویز راولپنڈی میں سبق آموز کارروائی شروع کر دی گئی جبکہ مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خاتون ایس ایچ او ریلویز پولیس
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔