ایک بیان میں نظام مصطفیٰ پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ صرف اور صرف اسرائیل کو تحفظ دینے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں، اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے عمرانی زبان میں واضح کردیا کہ وہ فلسطین سے اسرائیلی فوجیں نہیں نکالے گا۔ اسلام ٹائمز۔ نظام مصطفیٰ پارٹی کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب، پارٹی صدر میاں خالد حبیب الہیٰ ایڈووکیٹ، جنرل سیکریٹری پروفیسر عبدالجبار قریشی، چیف آرگنائزر انجینئر عبدالرشید ارشد نے مشترکہ بیان میں کہا کہ مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل کسی طرح قابل قبول نہیں ہم اور پوری اُمت مسلمہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبہ کو مسترد کرتی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح امریکی صدر ٹرومین کو خط میں واضح الفاظ میں لکھا تھا کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے پاکستان اسے کبھی تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ فلسطین پرصرف فلسطینیوں کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات قائم نہیں کرنا چاہتا، پاکستان کی طرف سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل اور ٹرمپ کے منصوبہ کی ابتداء میں ہی حمایت کرنا کسی طرح قابل قبول نہیں ہے، 25 کروڑ عوام اور وفاقی، صوبائی پارلیمنٹ اور سینٹ کو نظر انداز کرکے بانی پاکستان کے دوٹوک مؤقف کے برعکس محض ٹرمپ اور نیتن یاہو کی خوشنودی کے لیے 20 نکاتی منصوبہ کی حمایت ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے، کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ طے شدہ قومی موقف سے ہٹ کر ذاتی رائے اور مفادات کے لیے پوری قوم کے متفقہ موقف کے برعکس فیصلہ یا حمایت کرے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ صرف اور صرف اسرائیل کو تحفظ دینے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں، اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے عمرانی زبان میں واضح کردیا کہ وہ فلسطین سے اسرائیلی فوجیں نہیں نکالے گا۔ انہوں نے پاکستانی حکومت اور فیلڈ مارشل سے اپیل کہ وہ ملی و قومی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین و کشمیر سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کے لئے آگے بڑھے اور اسلامی ممالک کو یکجا کرکے آزاد فلسطین ریاست جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو اس کے لیے عملی اقدامات کریں، اگر اس وقت بھی دنیا بھر کے مسلمان فلسطینی مسلمانوں سے لاتعلق رہے تو روز محشر اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نکاتی منصوبہ نے کہا کہ

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم