اسرائیل ناجائز ریاست ہے پاکستان اسے کبھی تسلیم نہیں کرے گا، حاجی حنیف طیب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ایک بیان میں نظام مصطفیٰ پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ صرف اور صرف اسرائیل کو تحفظ دینے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں، اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے عمرانی زبان میں واضح کردیا کہ وہ فلسطین سے اسرائیلی فوجیں نہیں نکالے گا۔ اسلام ٹائمز۔ نظام مصطفیٰ پارٹی کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب، پارٹی صدر میاں خالد حبیب الہیٰ ایڈووکیٹ، جنرل سیکریٹری پروفیسر عبدالجبار قریشی، چیف آرگنائزر انجینئر عبدالرشید ارشد نے مشترکہ بیان میں کہا کہ مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل کسی طرح قابل قبول نہیں ہم اور پوری اُمت مسلمہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبہ کو مسترد کرتی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح امریکی صدر ٹرومین کو خط میں واضح الفاظ میں لکھا تھا کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے پاکستان اسے کبھی تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ فلسطین پرصرف فلسطینیوں کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات قائم نہیں کرنا چاہتا، پاکستان کی طرف سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل اور ٹرمپ کے منصوبہ کی ابتداء میں ہی حمایت کرنا کسی طرح قابل قبول نہیں ہے، 25 کروڑ عوام اور وفاقی، صوبائی پارلیمنٹ اور سینٹ کو نظر انداز کرکے بانی پاکستان کے دوٹوک مؤقف کے برعکس محض ٹرمپ اور نیتن یاہو کی خوشنودی کے لیے 20 نکاتی منصوبہ کی حمایت ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے، کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ طے شدہ قومی موقف سے ہٹ کر ذاتی رائے اور مفادات کے لیے پوری قوم کے متفقہ موقف کے برعکس فیصلہ یا حمایت کرے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ صرف اور صرف اسرائیل کو تحفظ دینے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں، اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے عمرانی زبان میں واضح کردیا کہ وہ فلسطین سے اسرائیلی فوجیں نہیں نکالے گا۔ انہوں نے پاکستانی حکومت اور فیلڈ مارشل سے اپیل کہ وہ ملی و قومی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین و کشمیر سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کے لئے آگے بڑھے اور اسلامی ممالک کو یکجا کرکے آزاد فلسطین ریاست جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو اس کے لیے عملی اقدامات کریں، اگر اس وقت بھی دنیا بھر کے مسلمان فلسطینی مسلمانوں سے لاتعلق رہے تو روز محشر اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نکاتی منصوبہ نے کہا کہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔