حماس کے عسکری ونگ نے جنگ بندی منصوبہ مسترد کردیا، بی بی سی کا بڑا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
غزہ: برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ نے امریکا کے نئے جنگ بندی منصوبے کو مسترد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حماس رہنما عزالدین الحداد کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل حماس کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، اسی لیے وہ لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی فریم ورک اسرائیل پہلے ہی قبول کرچکا ہے، لیکن اس میں حماس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی حکومت میں اس کا کوئی کردار نہ ہو۔
قطر میں موجود حماس کی کچھ سیاسی قیادت منصوبے کو ترامیم کے ساتھ قبول کرنے پر تیار ہیں، مگر ان کا اثر و رسوخ محدود ہے کیونکہ یرغمالیوں پر ان کا کنٹرول نہیں ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ غزہ میں حماس کے قبضے میں 48 یرغمالی موجود ہیں جن میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔ منصوبے کے تحت پہلے 72 گھنٹوں میں تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔
حماس رہنماؤں کو اس بات پر بھی خدشہ ہے کہ اسرائیل یرغمالیوں کی رہائی کے بعد دوبارہ حملے شروع کر سکتا ہے، خاص طور پر اس واقعے کے بعد جب امریکا کی مخالفت کے باوجود دوحہ میں حماس قیادت پر فضائی حملہ کیا گیا۔
مزید برآں، منصوبے میں غزہ کی سرحدوں پر ’سیکیورٹی بفر زون‘ قائم کرنے اور ایک عارضی بین الاقوامی فورس تعینات کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جسے حماس ایک نئی قسم کا قبضہ قرار دیتی ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی منصوبے کی کئی شقوں سے پیچھے ہٹنے کے اشارے دیے ہیں اور کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی مزاحمت کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
علامتی فوٹوحکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلیعلم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔