حماس کے ایک سینئر رہنما نے کہا ہے کہ فلسطینی تنظیم جلد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جاری اسرائیل کی تقریباً 2 سالہ جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کیے گئے منصوبے پر اپنا ردعمل دے گی۔

 الجزیرہ  ٹی وی کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے رکن محمد نزال نے کہا کہ گروپ اس منصوبے پر غور کر رہا ہے تاکہ اسرائیل کی جنگ کو روکا جا سکے اور جلد ہی اپنے مؤقف کا اعلان کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بطور فلسطینی مزاحمت کی نمائندہ جماعت، حماس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسا مؤقف اپنائے جو فلسطینی عوام کے مفاد میں ہو۔

یہ بھی پڑھیں:

’ہم اس منصوبے کو اس منطق کے تحت نہیں دیکھ رہے کہ وقت ہماری گردن پر تلوار بن کر لٹک رہا ہے۔‘

اس ہفتے کے آغاز میں وائٹ ہاؤس نے 20 نکاتی منصوبہ جاری کیا، جس میں فوری جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے، مرحلہ وار اسرائیلی انخلا، حماس کا غیر مسلح ہونا اور ایک عبوری بین الاقوامی حکومت کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو حماس کو تین سے چار دن کی مہلت دی کہ وہ اس منصوبے پر فیصلہ کرے۔

مزید پڑھیں:

اگرچہ فلسطینی عوام جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں، لیکن ان میں سے بیشتر کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کے حق میں زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے۔

ماضی کی بات چیت میں حماس نے مکمل اسرائیلی انخلا، مستقل جنگ بندی اور بے گھر خاندانوں کی واپسی کی ضمانت پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالطیف نے پیرس میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ ان کا ملک قطر اور ترکی کے ساتھ مل کر حماس کو اس منصوبے کی منظوری پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

انہوں نے اسرائیل کی روزانہ کی جارحیت کو ’نسلی تطہیر اور نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ توقع کرتے ہیں کہ حماس اس منصوبے کو قبول کرے گی، بصورت دیگر اس کے نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی میں رکاوٹ کی اصل وجہ حماس ہے۔

مزید پڑھیں:

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس نے بھی حماس سے منصوبے کو قبول کرنے، یرغمالیوں کی رہائی اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ان کا ملک صرف اسی صورت منصوبے کی حمایت کرے گا جب یہ دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کرے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل بارو نے کہا کہ حماس کو ہتھیار ڈال دینے چاہییں کیونکہ وہ یہ جنگ ہار چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کو بیرونی قوتوں کے ذریعے نئے انداز سے تشکیل دینے کی مغربی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، جو ماضی میں عراق جیسے ممالک میں ناکام ہو چکی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے میں ٹونی بلیئر جیسے متنازع کرداروں کی شمولیت خطے کے عوام کے خدشات میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل اسرائیلی انخلا امریکی صدر بے دخلی حماس خارجہ پالیسی ڈونلڈ ٹرمپ محمد نزال مشرق وسطیٰ نسل کشی نسلی تطہیر وائٹ ہاؤس یورپی یونین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی انخلا امریکی صدر بے دخلی خارجہ پالیسی ڈونلڈ ٹرمپ محمد نزال نسلی تطہیر وائٹ ہاؤس یورپی یونین مزید پڑھیں حماس کو نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل