آزاد کشمیر، وہ سرزمین جو قدرتی حسن، بہتے جھرنوں، سرسبز وادیوں، خوشبودار قدرتی گل و برگ، پھلوں، جنگلوں، سبزہ زاروں، تن بدن کو جگا دینے والی لہراتی میٹھی ہواؤں، چمکتے آسمانوں، خوبصورت انسانوں سے مزین انتہائی پرامن خطہ تھا، آج اپنے ہی باسیوں کے لہو سے رنگین ہو چکا ہے۔
جہاں کبھی امن کی ہوائیں بہتی تھیں، آج وہاں نفرت، تقسیم اور اضطراب کی لہر دوڑ رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کا پلیٹ فارم کیوں بنا؟ احتجاج کیوں ہوا؟، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ پرامن احتجاج کیسے شوریدہ ہوا؟ کس نے اس ’سوہنی دھرتی ‘ کو نفرت کی داغدار چادر تھما دی، اس کا فائدہ کس کو ہوا، مزید کون فائدہ اٹھائے گا؟
خطہ آزاد کشمیر میں جاری ’تحریک‘ نے ایک مرتبہ پھر ہمیں آئینہ دکھایا ہے کہ دشمن صرف سرحد کے اُس پار نہیں، بلکہ ہمارے اندر گھس کر سازشیں کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
جب بھارتی وزیر دفاع ’راجناتھ سنگھ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ’ہمیں آزاد کشمیر کو فوج کے ذریعے فتح کرنے کی ضرورت نہیں، یہ خود ہی پاکستان کا حصہ نہیں رہے گا‘، تو یہ محض ایک بیان نہیں، بلکہ ایک منصوبہ ہے، ایک ایسا منصوبہ جو برسوں سے کشمیر کی وحدت کو ہمیشہ کے لیے بگاڑنے، عوام کو باہم الجھانے اور پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔
بدقسمتی سے، ہم نے خود دشمن کو یہ موقع فراہم کیا۔ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ ہو یا اشرافیہ کی مراعات، یہ وہ سوالات ہیں جن پر بات ہونی چاہیے، لیکن اس کی تکمیل بندوقوں اور لاشوں کی گواہی پر نہیں، بلکہ دلیل، ووٹ اور آئینی راستے سے ہونی چاہیے۔
اشرافیہ کی بات کی جائے تو یہ بالکل درست ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنے چندے پر سڑکیں بنا رہے ہیں، اپنی مدد آپ ’پیادہ‘ راستے بنا رہے ہیں، سرکاری اسکولوں کی عمارتیں نا گفتہ بہ ہیں، اسپتالوں میں علاج کی سہولتیں نا پید ہیں، جعلی ادویات کی بھرمار ہے، تھانہ، کچہری، محکمہ مال کرپشن اور رشوت ستانی کے گڑھ ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہے۔
یہ سب وہ ساختی برائیاں اور مسائل ہیں جو ہماری حکمران اشرافیہ کے پیدا کردہ ہیں، ان کا احتساب یقیناً ضروری ہے لیکن اس کے لیے بھی قصور وار یہی عوام ہے کہ وہ ایسے نمائندوں کو بار بار اسمبلی میں کیوں بھیجتی ہے جو ان کے حقوق کے تحفظ کے بجائے، ان کے حقوق پر ’غاصب‘ بن جائیں، یہ تبدیلی بھی جمہوری طریقوں اور ووٹ سے لائی جا سکتی ہے۔
اگر آزاد کشمیر کے عوام واقعی ’مرعات یافتہ اشرافیہ‘ سے چھٹکارا چاہتے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اپنے سیاسی شعور کو بیدار کرنا ہوگا۔ وہ نمائندے جو عوامی مسائل کو نظر انداز کر کے صرف مراعات اور اقتدار کی سیاست کرتے ہیں، ان کا احتساب صرف اور صرف ووٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
خود اسمبلیوں میں پہنچانے والوں کو ہٹانے کا فیصلہ سڑکوں پر قطعاً ممکن نہیں، اس کے لیے عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف لسانی، قبائلی یا جذباتی بنیادوں پر ووٹ نہیں دیں گے بلکہ کارکردگی، امانت و دیانت کی بنیاد پر اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔
دشمن یقیناً طاق میں تھا، ایسا لگتا ہے کہ ایک جانب ہمارا دشمن مقبوضہ کشمیر کی ’ڈیموگرافی‘ تبدیل کرتے ہوئے اکثریت کو اقلیت میں بدلنے میں کامیاب ہونے جا رہا ہے، تو دوسری جانب ہمارے ’اندر‘ نفرتوں کی آگ لگانے میں بھی کامیاب ٹھہرا۔
کشمیر ایک ’وحدت‘ ہے، جس کی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، جموں کشمیر اور لداخ، 4 اکائیاں ہیں۔ جب تک یہ چاروں اکائیاں باہم ایک نہیں ہوتیں تکمیلِ ’ریاست جموں کشمیر‘ خواب ادھورا رہے گا، ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کی جانب سے مہاجرین کی سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ تبھی پورا ہو سکتا ہے جب ’ریاست جموں کشمیر‘ کی چاروں اکائیوں کے ساتھ تکمیل ریاست کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی‘۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا مہاجرین کی سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ یقیناً ’تکمیل ریاست جموں کمشیر‘ کا ایجنڈا نہیں ہو سکتا، یہ چاروں اکائیاں ریاست جموں کشمیر کا وجود ہیں، جن کے لیے ’خطہ آزاد کشمیر‘ کو ان کا ’بیس کیمپ‘ قرار دیا گیا، ان چاروں اکائیوں کی نمائندگی ہمارے ’مہاجر‘ بھائی ہی کرتے ہیں، ان مہاجر بھائیوں کو اپنے وجود سے الگ کرنے کا مطلب چاروں اکائیوں کو الگ کرنے کے مترادف ہے اور ہمارا دشمن بھی یہی چاہتا ہے، مہاجرین کی سیٹوں کی تعداد میں کمی کی بات تو کی جا سکتی ہے لیکن ان کا خاتمہ ’وحدت کشمیر‘ کے خاتمے سے کم نہیں تصور ہوگا۔
مہاجرین وہی لوگ ہیں جو ریاستِ جموں کشمیر کی دیگراکائیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی نشستوں کا خاتمہ دراصل کشمیر کی چاروں اکائیوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
مہاجرین کی نمائندگی کا تحفظ، اشرافیہ کے احتساب کا مطالبہ اور عوامی مسائل کا حل سب ضروری ہیں، لیکن یہ سب تبھی ممکن ہیں، جب ہم عقل، شعور اور جمہوری اقدار کے ساتھ اپنے مسائل کا حل تلاش کریں۔ خونریزی، انتشار اور نفرت کا راستہ نہ صرف مسئلہ کشمیر کو کمزور کرے گا بلکہ دشمن کے بیانیے کو بھی تقویت فراہم کرے گا۔
یقیناً جہاں عوام کو پانی، بجلی، تعلیم، علاج اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جاتا ہے، وہاں غصہ اور اضطراب فطری ہے۔ لیکن اس اضطراب کو استعمال کرنے والے عناصر کون ہیں؟ جب پولیس اور مظاہرین کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا گیا، جب تھوڑ پھوڑ ہو رہی ہے، جب اسلحہ کھلے عام استعمال ہو رہا ہے، تو یہ واضح ہو گیا کہ معاملہ صرف مہنگائی یا مہاجرین کی نشستوں تک محدود نہیں ہے۔
یہ سب ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد ریاست کو کمزور کرنا، عوام کو اشتعال دلانا اور بیرونی پروپیگنڈے کو ’انسانی لاشوں‘ کے ذریعے خوراک مہیا کرنا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش پر سب سے زیادہ چیخ و پکار ہوئی، کیوں؟ کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کو ایک مخصوص بیانیہ دکھایا جانا مقصود تھا۔
یہی بیانیہ بھارت کے مفاد میں استعمال ہو رہا ہے جو دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ ’آزاد‘ کشمیر بھی کسی قید سے کم نہیں۔ اس ماحول میں بیرون ملک بیٹھے اپنے ہی خطے کے لوگوں نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے زہر اُگلا، ریاست کو بدنام کیا اور احتجاج کو تحریکِ آزادی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، آزاد کشمیر کو پاکستان کا ’مقبوضہ کشمیر‘ قرار دے کر کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ وابستگی کو کمزور کیا گیا۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ احتجاج کرنا ایک جمہوری حق ہے، لیکن ریاست پر حملہ، عوامی و قومی اداروں کو تباہ کرنا، اپنے ہی بھائیوں پر گولیاں برسانا اور نفرت کی بنیاد پر بیانیہ بنانا دشمن کا ایجنڈا ہی ہو سکتا ہے۔
پولیس، ایف سی، رینجرز پر حملہ صرف اداروں پر نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی نظریاتی وابستگی اور ریاست جموں کشمیر کی بنیادوں پر حملہ ہے اور اگر دشمن کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو پھر یہ ضرور جانچنا ہوگا کہ ہم کہیں دانستہ یا نادانستہ طور پر اس کے ایجنڈے کو مکمل تو نہیں کر رہے؟
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ’عوامی محرومیوں کا حل بندوق نہیں، بیلٹ ہے۔ بدعنوان اشرافیہ کا محاسبہ نفرت سے نہیں بلکہ آئینی اصلاحات سے بھی ممکن ہے۔ ہمیں اپنی صفوں میں موجود اُن عناصر کو بھی بے نقاب کرنا ہوگا جو سچے عوامی مطالبات کو اپنے خفیہ ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم لاشوں کے پیچھے چھپی سازشوں کو سمجھیں، اپنی ریاستی وحدت کو مضبوط کریں اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک پرامن، خوشحال اور متحد کشمیر کا خواب بچا سکیں۔ ہمیں اس دھرتی کو پھر سے وہی امن، محبت، اور بھائی چارے کی زمیں بنانا ہوگا جہاں خون نہیں، علم اور شعور اگتا ہو۔
آزاد کشمیر کے عوام کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ ’کشمیر ایک وحدت ہے اور اس کی کسی ایک ’اکائی‘ میں کسی بھی قسم کا ’انتشار‘ قابل قبول نہیں، عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ’سوہنی دھرتی‘ کے رنگ کو اپنے لہو سے رنگنے دیں گے یا اس کو امید، ترقی اور اتحاد کے رنگ سے سجا کر دشمن کو یہ پیغام دیں گے کہ ’کشمیر ایک ہے، کشمیر زندہ ہے اور کشمیر آزاد ہو کر رہے گا‘۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مہاجرین ریاست جموں کشمیر چاروں اکائیوں مہاجرین کی کرنا ہوگا کشمیر کی کرتے ہیں کے ذریعے کو کمزور عوام کو کے ساتھ اپنے ہی رہا ہے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔