پنجاب کی ذمہ دار ہوں اس کے لیے فائٹ بھی کروں گی، مریم نوازشریف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ میں پنجاب کے معاملات کی ذمہ دار ہوں اور اس کے حق کے لیے ہر سطح پر فائٹ کروں گی۔
وہ گورنر ہاؤس لاہور میں نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکا اور فیکلٹی ممبران سے ملاقات کے موقع پر اظہار خیال کر رہی تھیں۔
وزیراعلیٰ نے وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پنجاب میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی تعیناتیاں ختم کر دی گئی ہیں، تمام تقرریاں سو فیصد میرٹ پر ہورہی ہیں اور کرپشن کے معاملے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا ’میگنیفیسنٹ پنجاب‘ میگا ٹورسٹ منصوبہ کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ عوام کا پیسہ صرف عوام پر خرچ ہوگا، ای ٹینڈرنگ کے ذریعے تمام کنٹریکٹس خالصتاً شفافیت سے دیے جارہے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کی عزت دنیا میں معاشی اور دفاعی طاقت سے جڑی ہے، اسی لیے ہم پنجاب کو ترقی اور خود انحصاری کی راہ پر ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر پاک فوج، نیوی اور ایئر فورس کو مبارکباد دی اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت عسکری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے، 500 دیہات کو ترقی دی جارہی ہے اور صحت کے مراکز کو یورپی معیار کے برابر بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے دوسرے صوبوں کے لیے بھی لیپ ٹاپ اسکیم کا اعلان کردیا
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے دوران پنجاب حکومت نے تاریخ کا سب سے بڑا انخلا آپریشن کامیابی سے مکمل کیا، جبکہ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے متاثرین کی جانیں بچائی گئیں۔
شرکا وفد میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے افسران، سول آفیسرز اور 26 ممالک کے 47 غیر ملکی افسران شامل تھے، جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے فلاحی اور اصلاحاتی منصوبوں کو سراہا۔ بنگلادیش کے مندوب نے مریم نواز شریف کی عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گورنر ہاؤس لاہور مریم نوازشریف نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گورنر ہاؤس لاہور مریم نوازشریف نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس مریم نوازشریف نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔