پی ڈی پی کی صدر نے کہا کہ کشمیریوں نے ہندوستان کیساتھ رہنے کو ترجیح دی تھی، پاکستان کیخلاف جاکر ہندوستان کیساتھ الحاق کیا اور آج اس کشمیر کو ایک جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے صدر محبوبہ مفتی نے مرحوم آزادی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے رہائشی مکان کو قرق کرنے پر حکومت کی سخت نقطہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی کے انتقال کے بعد قرق کئے گئے مکان میں مرحوم کی اسی سالہ بیوہ رہائش پذیر ہے، کم سے کم سرکار کو اس کا لحاظ کرنا چاہئے تھا۔ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ حکومت کو مرحوم سید علی گیلانی کے ساتھ اختلافات ہوسکتے ہیں ان کے خیالات کے ساتھ اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اس کی سزا ان کی معمر بیوہ کو نہیں دینی چاہیئے، یہ قدم انسانیت کے خلاف ہے۔ محبوبہ مفتی نے اپنی پارٹی اور سخت گیر ہندو تنظیم کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جیسے پی ڈی پی کو آر ایس ایس کی پالیسی کے ساتھ اتفاق نہیں ہے اسی طرح مودی حکومت کو سید علی گیلانی کے خیالات کے ساتھ اختلافات ہو سکتے ہیں مگر ان کے مکان کو بھی مجرم بنا دینا کہاں کی انسانیت ہے۔

پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے "کشمیر کے ساتھ سخت گیر پالیسی کا مظاہرہ" کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کشمیر کے اسکولوں کو اٹیچ کیا گیا، فلاح عام ٹرسٹ پر پابندی عائد کی، ملازمین کی نوکریاں چھین لی جاتی ہیں، ملی ٹنٹس کے گھر کو بارود سے اڑایا جا رہا ہے، آئے روز مکانات کو اٹیچ کیا جاتا ہے جیسے سید علی شاہ گیلانی کے گھر کو اٹیچ کیا گیا۔ انہوں نے ایک بار پھر مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت ہر مسئلہ کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے ہندوستان کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی تھی، پاکستان کے خلاف جا کر ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا اور آج اس کشمیر کو ایک جیل خانے میں تبدیل کیا گیا ہے اور یہاں کی عوام کو مجرموں سا سلوک کیا جاتا ہے۔

پی ڈی پی کی صدر نے انتباہ کیا کہ حکومت کی اس سخت گیر پالیسی کے اچھے نتائج سامنے نہیں آ سکتے ہیں، اس سے دوریاں کم نہیں بلکہ مزید بڑھ جاتی ہیں اس سے آنے والے وقت میں مفاہمت کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا نمائندوں کے ساتھ گفتگو کے دوران کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید علی شاہ گیلانی محبوبہ مفتی نے گیلانی کے پی ڈی پی کے ساتھ کیا گیا کہا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو