کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی، کروڑوں مالیت کے لیپ ٹاپس سمیت الیکٹرونک سامان ضبط، ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے کہا ہے کہ کراچی ائیرپورٹ پر کسٹمز نے بغیر ڈیوٹی ادا کیے 10 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کے لیپ ٹاپس، آئی پیڈز، آئی فونز، میک بکس، پلے اسٹیشنز اور میموری کارڈز ضبط کر لیے اور اس عمل میں ملوث کمپنی کے ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق کلکٹوریٹ آف کسٹمز ائیرپورٹ کراچی نے فوری طور پر دو ایف آئی آرز درج کروا کر اس جرم میں ملوث کمپنی کے ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ الیکٹرونک سامان کو گڈز ڈیکلریشن جمع کرائے بغیر غیر قانونی طور پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کیے بغیر باہر نکالی جا رہی تھیں، اس فراڈ میں ایک غیر ملکی گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنی کے ملازمین اور بدعنوان درآمد کنندگان ملوث پائے گئے ہیں۔
کارروائی کے حوالے سے بتایا کہ جعلی طریقہ کار سے مجموعی طور پر 5 کھیپیں غیر قانونی طور پر باہر نکالی گئیں، ان کھیپوں کو کسٹمز کے وی باک سسٹم سے چھپایا گیا اور جی ڈی دائر نہ کرکے جعلی گیٹ پاسز کے ذریعے کلیئرنس ممکن بنائی گئی۔
ایف بی آر نے بتایا کہ پانچوں کھیپوں کی غیر قانونی کلیئرنس پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کا مجموعی تخمینہ شدہ مالیت 38 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے، کمپنی ملازمین نے قیمتی الیکٹرونکس اشیا غیر قانونی طور پر باہر نکالنے کے لیے اپنے کمپیوٹرائزڈ آئی کارگو سسٹم کو استعمال کیا۔
حکام نے بتایا کہ صرف ایک کنسائنمنٹ سے 258 آئی فون 16، 101 لیپ ٹاپس، 246 ٹیبلیٹس، 102 آئی پیڈز، 46 پلے اسٹیشنز اور 20 ہزار میموری کارڈ برآمد کیے گئے۔
کسٹمز حکام کے مطابق گیٹ پاس جاری کرنے والی خاتون زیرحراست ہیں، خاتون کے مطابق انہیں اوپر سے ہدایات مل رہی تھیں جبکہ نجی کارگو ٹرمینل کا ایک ماہ سے زائد سی سی ٹی وی ریکارڈ دینے میں ہچکچاہٹ سے کام لے رہا ہے۔
حکام نے کہا کہ مزید ایف آئی آرز اور گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
چئیرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہنے والے کسٹمز اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔