ایپل نے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی نقل و حرکت مانیٹر کرنے والی ایپ ہٹا دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ایپل نے اپنی ایپ اسٹور سے وہ ایپس ہٹا دی ہیں جو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) ایجنٹس کی نقل و حرکت کی خفیہ اطلاع دینے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں، غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ پر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ممبئی ایپل اسٹور پر نئے آئی فون 17 کے لیے دھینگا مشتی
ایپل کی یہ ایپس گزشتہ چند ماہ میں تیزی سے مقبول ہو گئی تھیں کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑے پیمانے پر ڈیپورٹیشن مہم ملک بھر کے شہروں میں زور پکڑ رہی تھی۔ تاہم حکام نے ان ایپس کو افسران کی جان کے لیے خطرہ قرار دیا تھا، خاص طور پر اس وقت کے بعد جب گزشتہ ماہ ٹیکساس میں ICE کے ایک مرکز پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں 2 حراستی افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور نے اس واقعے سے قبل اسی نوعیت کی ایک ایپ استعمال کی تھی۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ICE ٹریکنگ ایپس، جن میں مقبول ترین ایپ ICEBlock بھی شامل ہے، اب ایپل اسٹور پر دستیاب نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کی چیٹ جی پی ٹی طرز کی ایپ متعارف، نیکسٹ جنریشن ’سری‘ لانچ کرنے کی تیاری
امریکی اٹارنی جنرل پام بانڈی کے مطابق محکمہ انصاف نے آج ایپل سے رابطہ کر کے ICEBlock ایپ ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر ایپل نے فوری عمل کیا۔
ایپل کا مؤقف ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے موصولہ معلومات کے مطابق ICEBlock اور اسی نوعیت کی دیگر ایپس افسران کی حفاظت کے لیے خطرہ تھیں، اس لیے انہیں ایپ اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایپل نقل و حمل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایپل کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔