سرکاری حج اسکیم میں درخواست جمع کرانے والے افراد کے لئے اہم خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سرکاری حج اسکیم میں درخواست جمع کرانے والے افراد کے لئے اہم خبر آگئی، وزارت مذہبی امور نے عازمین کو خبردار کردیا۔
تفصیلات کے مطابق وزارت مذہبی امور کے ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سرکاری حج اسکیم کے تحت حج واجبات کی دوسری اور آخری قسط جمع کرانے کا مرحلہ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ بروقت دوسری قسط جمع نہ کرنیوالے حج پرنہیں جا سکیں گے تاہم سرکاری اسکیم کے تحت حج واجبات کی دوسری قسط 3 تا 10نومبرتک وصول کی جائیں گی۔
ذرائع نے کہا کہ دوسری قسط کی مد میں فی کس ساڑھے 6 لاکھ روپے وصول کیے جائیں گے اور حج درخواست گزار یہ رقم ملک کے 14 منتخب بینکوں میں جمع کرا سکیں گے۔
اطلاعات کے مطابق ڈبل بیڈ فیملی روم منتخب کرنے والے افراد کو اضافی 2 لاکھ روپے جبکہ ٹرپل بیڈ فیملی روم لینے والوں کو 67 ہزار روپے فی کس مزید ادا کرنا ہوں گے۔
وزارت مذہبی امور کے ذرائع کے مطابق درخواست گزار دوسری قسط جمع کراتے وقت حج پیکج میں تبدیلی کرسکیں گے، تاہم دوسری قسط کی وصولی کے بعد پیکج تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جو افراد مقررہ مدت میں دوسری قسط جمع نہیں کرائیں گے ان کی حج درخواستیں منسوخ تصور کی جائیں گی۔ منسوخ درخواستوں کی جمع شدہ پہلی قسط کی رقم بینک اکاؤنٹس میں واپس کر دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔