سینیٹر مشتاق کی گرفتاری و آزاد کشمیر کی کشیدہ صورتحال ، حافظ نعیم الرحمن کا وزیراعظم کو فون
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے سینیٹر مشتاق احمد خان اور گلوبل صمود فلوٹیلا کے دیگر گرفتار پاکستانی امدادی کارکنوں کی رہائی اور بازیابی کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیاہے ۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے قوم کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم نے انہیں بتایا ہے کہ اس اہم نوعیت کے مسئلہ پر انہوں نے وزیر خارجہ اسحق ڈار کی ذمے داری لگا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف جماعت اسلامی کا معاملہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے حوالے سے اس کی اہمیت ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ اور گرفتاریاں سخت قابل مذمت ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ پروگرام پر بھی جماعت اسلامی بلکہ پوری قوم کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبہ پر قائم رہنا چاہیے اور کسی ایسے منصوبہ کی حمایت نہیں کرنی چاہیے جو بالآخر اسرائیل ہی کو طاقت فراہم کرے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے وزیراعظم سے کہا کہ آزاد کشمیر کی تشویشناک صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ احتیاط کا برتا کیا جائے۔ حکومت ذمہ داری کے ساتھ اس معاملے کا بات چیت کے ذریعے حل نکالے اور ایسا کوئی بیانیہ جو صرف چند لوگ کے زیر اثر ہے اسے تمام کشمیریوں کا موقف نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے شہباز شریف سے مزید کہا کہ کشمیری پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی قسم کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ملک اور کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اور دشمن اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :