لاہور، اسرائیلی جارحیت کیخلاف جماعت اسلامی کا احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
رہنماوں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے غزہ کے حوالے سے جو20 نکاتی معاہدہ پیش کیا ہے، وہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ منصوبہ سراسر دھوکہ اور اسرائیل کو تحفظ دینے کے سوا کچھ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں جاری نسل کشی، صمود فلوٹیلا کے پُرامن قافلے پر اسرائیلی حملہ اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی گرفتاری کیخلاف لاہور میں ملتان روڈ پر احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا اہتمام جماعت اسلامی لاہور کی جانب سے کیا گیا۔ احتجاجی ریلی میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد، سیکرٹری جماعت اسلامی ضلع لاہور غربی طلحہ ادریس ، ڈپٹی سیکرٹری لاہور عبدالعزیز عابد،امیر زون 168محمد شفیق ملک ، صدر جے آئی یوتھ لاہور غربی احمد فرحان سلیمی سمیت دیگر نے شرکت کی۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ذکراللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ پوری قوم فلسطین کیساتھ ہے اور اس سلسلے میں کل بروز ہفتہ بھیکھے وال موڑ پر غزہ مارچ کیا جائے گا، جس میں اہل لاہور کثیر تعداد میں شرکت کریں گے۔ دیگر رہنماوں کا کہنا تھا کہ اسرائیل جس طرح غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے، اس پر دنیا بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں، جبکہ صمود فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور جماعت اسلامی کے رہنما سابق سینیٹر مشتاق احمد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ رہنماوں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے غزہ کے حوالے سے جو20 نکاتی معاہدہ پیش کیا ہے، وہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ منصوبہ سراسر دھوکہ اور اسرائیل کو تحفظ دینے کے سوا کچھ نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :