آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر اصولی اتفاق رائے کرلیا ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر اصولی اتفاق رائے کرلیا ہے۔جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھاکہ وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھیجی تھی، کمیٹی کے مذاکرات ہوئے ہیں۔ آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر اصولی اتفاق رائے کرلیا ہے، اس وقت معاہدے کے مسودے پر دونوں اطراف سے غورکیا جارہا ہے اور جلد معاہدے پردستخط ہوجائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کردی
انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت ایسی صورتحال سے بچ گئے ہیں جہاں پاکستان کے بد خواہ بد امنی اور عدم استحکام چاہتے تھے، یہ جیت پاکستان اورآزاد کمشیرکے عوام اورجمہوریت کی ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھاکہ وزیرامورکشمیرکی نگرانی میں ایک مستقل کمیٹی بنائی ہے، کمیٹی کا ہرپندرہ 15 دن میں اجلاس ہوگا، مطالبات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے مزید بتایاکہ مہاجرین کی نشستوں سے متعلق ایک آئینی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، آئینی ماہرین کی کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی اور کمیٹی کے جائزے کے بعد جو فیصلہ کیا جائے گا وہ سب کو قبول ہوگا، یہ آئینی معاملہ ہے اس میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔خیال رہے کہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں حکومتی کمیٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ مذاکراتی عمل میں طارق فضل چوہدری، راجہ پرویز اشرف، رانا ثنا اللہ، احسن اقبال اور امیر مقام شریک ہیں۔
مقدر کا سکندر اور کسے کہتے ہیں؟؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایکشن کمیٹی کے احسن اقبال معاہدے پر کے ساتھ
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔