غیر قانونی سگریٹس معاشی ومالی استحکام کیلیے خطرہ بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
غیر قانونی سگریٹس کی بڑھتی تجارت معیشت کیلیے چیلنج جبکہ مالی استحکام کیلیے خطرہ بن گئی۔
ماہرین کے مطابق قانونی کاروبارکرنیوالی تمباکوکمپنیاں سالانہ تقریباً 270 ارب روپے ٹیکس اداکرتی ہیں،جبکہ سگریٹ کی بلیک مارکیٹ قومی خزانے کو سالانہ 400 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچارہی، جس سے مالی خسارہ بڑھنے کے علاوہ باضابطہ معیشت میں مسابقت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
معاشی مبصر اسامہ صدیقی کے مطابق غیرقانونی سگریٹس کی بڑھتی فروخت اور اس سے جڑی ٹیکس چوری سرمایہ کاروں کیلیے پیغام ہے کہ قوانین باآسانی نظراندازکیے جا سکتے ہیں، جس سے قانونی تجارت کرنیوالوں کامعیشت پر اعتمادمتزلزل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم خاص شعبہ تمباکو میں ٹیکس چوری پر قابو پانے کیلیے بنایاگیا،کمزور نفاذکے باعث مارکیٹس میں غیر قانونی سگریٹس کی بھرمار ہے، اس کے تدارک کیلیے تقسیم کے مراکز اور ریٹیل نیٹ ورکس کا مستقل اور ہدفی کریک ڈاؤن ناگزیر ہے، غیر قانونی تجارت پر موثرکنٹرول ہی ٹیکس بیس بڑھانے کا تیز ترین طریقہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قانونی سگریٹس
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔