حکمران عوام سے جمع کیا گیا ٹیکس درست جگہ استعمال کریں، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ حکمران عوام سے جمع کیا گیا ٹیکس صحیح جگہ استعمال کریں، ٹیکس کے پیسوں کا درست استعمال سیاستدانوں کا کام ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ملکی خوشحالی کیلئے دن رات کوشاں ہیں، خطے میں کوئی سب سے پیچھے رہ گیا تو وہ پاکستان ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل حل کرنا منتخب عوامی نمائندوں کی ذمے داری ہے، ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ پولیس پر عوام کا اعتماد نہیں، عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے، ادارے میں اصلاحات کی ضرورت ہے، ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔