رواں سال کا پہلا سپر مون 7 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھا جائے گا۔
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
رواں سال کا پہلا پورا چاند جسے سپر مون 7 اکتوبر کو دکھائی دے گا۔پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن کے مطابق سال کا پہلا سپر مون بروز منگل 7 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں نظر آئے گا، جبکہ رواں سال مزید دو سپر مون، 5 نومبر اور 5 دسمبر کو بھی دکھائی دیں گے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق سپر مون اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب چاند اپنی مدار میں گھومتے ہوئے زمین کے قریب ترین فاصلے پر ہوتا ہے، اس وجہ سے چاند معمول کے مقابلے نمایاں طور پر بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسے سپر مون کہا جاتا ہے۔ سپارکو حکام کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کا سپر مون اوسط پورے چاند سے تقریباً 14 فیصد بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن نظر آئے گا اس رات، چاند زمین سے تقریباً 224,599 میل (361,400 کلومیٹر) کی دوری پر ہوگا۔ اوسطاً ہر سال 3 سے 4 سپر مون نمودار ہوتے ہیں، تاہم اس سے قبل آخری سُپر مون 11 ماہ قبل نومبر 2024 میں دیکھا گیا تھا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق سُپر مون خاص طور پر اُس وقت زیادہ حسین منظر پیش کرتا ہے جب وہ افق کے قریب طلوع ہوتا ہے، کیونکہ اُس وقت وہ معمول سے کہیں زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔