کشمیریوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
ضلع اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو بھارت مخالف قرار دیکر سرکاری ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ کشمیریوں کے مکانات کو بھی بھارت مخالف قرار دیکر ضبط کیا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے ضلع اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو بھارت مخالف قرار دیکر سرکاری ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ کشمیریوں کے مکانات کو بھی بھارت مخالف قرار دیکر ضبط یا پھر دھماکہ خیز مواد کے ذریعے اڑا دیا جاتا ہے۔ 2004ء میں بابائے حریت سید علی گیلانی کی طرف سے قائم کی گئی تنظیم تحریک حریت کشمیر کے دفتر کی ضبطگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی کا انتقال ہو گیا ہے تاہم ان کی بیوہ وہاں مقیم ہیں۔ واضح رہے کہ بھارتی قابض انتظامیہ نے بدھ کو کالے قانون یو اے پی اے کے تحت حیدر پورہ سرینگر میں سید علی گیلانی کی رہائش گاہ کی تین منزلہ عمارت جو تحریک حریت کا ہیڈکوارٹر بھی تھا کی ضبطگی کے احکامات جاری کئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ کشمیریوں جا رہا ہے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔