مراکش ، نوجوانوں کے حکومت مخالف مظاہرے، جھڑ پوں میں 300 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رباط (مانیٹرنگ ڈیسک) مراکش میں بڑے پیمانے پر جاری عوامی مظاہروں کی قیادت کرنے والے نوجوانوں کے گروپ نے حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 6 روز سے جاری احتجاجی لہر کے دوران اب تک 3 افراد ہلاک اور تقریباً 300 زخمی ہوچکے ہیں۔مظاہرین کی قیادت کرنے والے ’جنریشن زی 212‘ نامی گروپ نے تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔یہ احتجاجی لہر گزشتہ ماہ اگادیر کے ایک سرکاری اسپتال میں 8 حاملہ خواتین کی اموات کی خبروں کے بعد شروع ہوئی جس سے عوامی غصے میں اضافہ ہوا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں اور کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے بجائے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر توجہ دینی چاہیے۔مراکش کے وزیراعظم عزیز اخنوش نے مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اپنے پہلے عوامی خطاب میں کہا کہ حکومت احتجاج کرنے والوں کے مطالبات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بدھ کی رات کے واقعات کو ’افسوسناک‘ قرار دیا، جن میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مراکش کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ یہ افراد ایک مقامی پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش کے دوران مارے گئے۔وزارت کے مطابق اب تک 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ تقریباً 300 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار شامل ہیں، اسی طرح 80 سے زائد سرکاری و نجی عمارتوں اور سیکڑوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔مظاہرین نے کرپشن کے خاتمے، آزادی، وقار اور سماجی انصاف کے نعرے بلند کیے ہیں۔ ’جنریشن زی 212‘ نامی گروہ نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وہ ملک اور بادشاہ محمد ششم سے محبت کرتے ہیں تاہم بعض سیاسی جماعتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ