جماعت اسلامی بلوچستان کے تحت اسرائیل کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ(نمائندہ جسارت)کوئٹہ میں جماعت اسلامی بلوچستان کی جانب سے اسرائیلی جارحیت ،صمود فلوٹیلا کے شرکا کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائیں۔کوئٹہ میں جماعت اسلامی بلوچستان کے زیر اہتمام اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرے میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے ساتھ بچوں نے بھی شرکت کی اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے کہا کہ ملک میں بے امنی کے واقعات میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لیے جماعت اسلامی کے سینیٹر فلسطین گئے تھے جنہیں اسرائیلیوں نے گرفتار کر لیا۔ مظاہرین نے مؤقف اپنایا کہ جماعت اسلامی فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم فلسطین کے مسلمانوں کی آواز بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کا نام مٹانا چاہتا ہے اور فلسطین کے بچوں کو بھوک سے مارا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر سے ہمارا تعلق کلمے کی بنیاد پر ہے جبکہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کی خاموشی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی مظاہرین نے کے خلاف
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔