وزیرِ اعظم کی جاتی امرا میں نواز شریف سے ملاقات، آزاد کشمیر کی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی، سابق وزیرِ اعظم اور صدر مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف سے اہم ملاقات کی اور اپنے حالیہ بیرون ملک دوروں کے حوالے سے آگاہ کیا اور آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال اور کامیاب مزاکرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف جاتی امرا جہاں انہوں نے صدر مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی۔
وزیرِ اعظم نے صدر مسلم لیگ ن کو اپنے حالیہ بیرون ملک دوروں کے حوالے سے آگاہ کیا، وزیرِ اعظم نے میاں محمد نواز شریف کو آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال اور کامیاب مزاکرات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔
کل وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف ملائیشین وزیرِ اعظم انور ابراہیم کی دعوت پر ملائیشیاء کے دو روزہ دورے پر روانہ ہونگے۔
ملائیشیاء کے وزیرِ اعظم نے میاں محمد نواز شریف کو بھی دورہء ملائیشیاء کی دعوت دی تھی، مگر میاں محمد نواز شریف نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کسی اور مناسب وقت پر یہ دورہ کرنے کی بات کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میاں محمد نواز شریف
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔