سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 4 روز کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 اکتوبر2025ء ) پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 4 روز کی توسیع کردی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ضلع کچہری لاہور میں ریاست مخالف ٹویٹ اور صوبائی وزیر کی نامناسب تصویر اپلوڈ کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی جہاں عدالت نے فلک جاوید کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کر دی، اس حوالے سے جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کا حکم دیا۔
بتایا گیا ہے کہ دوران سماعت این سی سی آئی اے نے فلک جاوید کا مزید جسمانی ریمانڈ طلب کیا، تاہم پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے وکیل رانا عبدالمعروف نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کی، انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ’این سی سی آئی اے کر کیا رہی ہے؟ ایف آئی آر جھوٹ پر مبنی ہے، ایف آئی آر میں 6 نام ہیں جو لنک استعمال ہوئے، میری مؤکلہ کو نہ ہی مقدمہ میں نامزد کیا گیا بلکہ ان کی بہن صنم جاوید کی وجہ سے گرفتار کیا گیا‘۔(جاری ہے)
وکیل صفائی نے کہا کہ ’این سی سی آئی اے نے فلک جاوید کو جھوٹے مقدمات میں شامل کیا، این سی سی آئی اے نے پہلے ریمانڈ پر موبائل ریکور کرنے کا کہا لیکن ملزمہ اس دن سے جیل کسٹڈی میں ہیں انہیں برآمدگی کے لیے باہر کہیں نہیں لے کر جایا گیا، این سی سی آئی اے میری مؤکلہ کے اوپر موبائل کہاں سے ڈال رہی ہے؟ 9 دن کا ریمانڈ ہو چکا ابھی تک کوئی پراگریس نہیں ہوئی، اس لیے ابھی ملزمہ کا مزید جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا، عدالت ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے‘۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے جسمانی ریمانڈ میں سی سی آئی اے فلک جاوید
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔