ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے باعث ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں کو الرٹ کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق بارشوں کے باعث بالخصوص پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بارش کا امکان ہے، جبکہ سندھ کے کئی اضلاع، بشمول کراچی، میں بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رونما ہوسکتے ہیں، جس سے مقامی آبادی اور مسافروں کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
این ڈی ایم اے نے اپنے الرٹ میں شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بالخصوص وہ علاقے جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی مقامی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔
دوسری جانب ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے اور نئی بارشوں کے باعث پنجاب اور بالائی علاقوں میں سیلابی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لینڈ سلائیڈنگ علاقوں میں بارشوں کے ڈی ایم اے کی پیش
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور