data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسکاٹ لینڈ کے علاقے آئزل آف اسکائی میں سائنس دانوں نے ایک ایسی حیرت انگیز دریافت کی ہے جس نے جانوروں کی ارتقائی تاریخ کے بارے میں نئے دروازے کھول دیے ہیں۔

ماہرین نے یہاں ایک ایسے قدیم جاندار کے فوسل دریافت کیے ہیں جو نہ مکمل طور پر سانپ تھا اور نہ ہی چھپکلی ، بلکہ ان دونوں کے ملاپ جیسی ایک نایاب مخلوق تھی۔ اس مخلوق کا سائنسی نام Breugnathair elgolensis رکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے ’جعلی سانپ‘۔

تحقیقات کے مطابق یہ جاندار تقریباً 167 ملین سال قبل مڈل جراسک دور میں زمین پر موجود تھا۔ اس کے دانت اور جبڑا سانپ کی طرح خمیدہ اور شکار کے لیے موزوں تھے جب کہ اس کا جسمانی ڈھانچہ چھپکلی جیسا تھا، یعنی مکمل ٹانگوں کے ساتھ۔ دماغی ساخت اور جسمانی تناسب بھی چھپکلیوں سے ملتا جلتا تھا، لیکن اس میں وہ ابتدائی خصوصیات موجود تھیں جو بعد میں سانپوں میں نمایاں ہوئیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس نظریے کو مضبوط کرتی ہے کہ سانپوں کے اجداد ایسے ہی جاندار ہوسکتے تھے جن کے جبڑے اور دانت تو سانپوں کی طرح تھے مگر جسم ابھی چھپکلیوں جیسا تھا۔ اس طرح کی دریافتیں واضح طور پر بتاتی ہیں کہ سانپ اور چھپکلی کے درمیان ارتقائی فرق ایک دم سے نہیں بلکہ رفتہ رفتہ پیدا ہوا۔

ماہرین کے مطابق اس مخلوق کی دریافت نہ صرف سانپوں کی ابتدا کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ یہ ارتقائی عمل کی ایک اہم کڑی بھی ہے، جو بتاتی ہے کہ قدرت کس طرح لاکھوں سال میں مختلف جانداروں کو نئی شکلوں میں ڈھالتی رہی ہے۔

اس فوسل نے سائنس دانوں کے درمیان ایک نیا تحقیقی باب کھول دیا ہے، جس میں وہ سانپوں اور چھپکلیوں کے مشترکہ اجداد کے بارے میں مزید سراغ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز