اپنے علاقوں میں واپس جانے سے باز رہیں؛ اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کو نئی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
امریکی صدر کے 20 نکاتی امن منصوبے پر رضامندی کے بعد اسرائیل کا نیا یوٹرن، فلسطینیوں کو ان کے گھر جانے سے روک دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے حوالے سے ایک نیا اور سخت انتباہ عربی زبان میں جاری کیا ہے۔
جس میں فلسطینیوں کو کہا گیا ہے کہ غزہ شہر واپس جانا ان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اپنی جانوں کی حفاظت کے لیے واپس نہ جائیں۔
اسرائیلی فوج نے دھمکی دی کہ اب بھی ان علاقوں میں فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں جاری رہیں گی جن میں عام شہری بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں بیان میں شمالی غزہ سے جنوب کی طرف نقل مکانی کے لیے مخصوص راستہ (Rashid route) کھلا رکھنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔
غزہ جنگ بندی منصوبے پر فریقین کی رضامندی کے باوجود اسرائیلی ٹینکوں نے شہر کے مرکزی راستے کو بلاک کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے جو لوگ شہر چھوڑ کر گئے تھے وہ واپس نہیں جا سکتے۔
بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ محصور فلسطینیوں کے لیے گھروں کو واپسی کا یہ آخری موقع ہے لیکن اسرائیل کے اس طرح کے اقدامات نے شہری نقل و حرکت اور امدادی رسد پہنچانے کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ادھر صحافی تنظیموں اور طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صدر ٹرمپ کے غزہ پر حملے فوری طور پر بند کرنے کے واضح ہدایت کے باوجود فضائی اور زمینی حملے جاری ہیں۔
غزہ کے پنا گزین کیمپوں میں ان تازہ حملوں میں اب تک کم از کم 7 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ درجنوں زخمی ہیں۔ 20 سے زائد گھر بھی تباہ ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک