لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 اکتوبر2025ء)اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کررہا ،سابق سینیٹر مشتاق کو اسرائیل کے چنگل سے چھڑوانے کے لیے اسحاق ڈار یورپ سے مسلسل رابطے میں ہیں،مشتاق احمد کی رہائی کیلئے قومی اسمبلی میں اسحق ڈار نے جو تقریر کی وہ سن لیں وہ یورپ سے رہائی کے لئے مسلسل رابطہ میں ہیں اور اسرائیل کے چنگل سے سابق سینیٹر کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سی پیک پاکستان کی ترقی کا منصوبہ ہے جس کے خلاف سازشیں کی گئی ہیں،آج سی پیک ٹو پر بھی سازشیں ہو رہی ہیں، مگر حکومت اور سکیورٹی ادارے مل کر ہر سازش کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے،آزاد کشمیر میں جن افراد نے قانون ہاتھ میں لیا ہے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارانہوں نے صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ کے ہمراہ حلقہ این اے 120 کی یو سی 175 واڑہ گجراں میں ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ علاقے کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ یہاں وہ کام ہونے جا رہا ہے جس کے بعد مسائل کا خاتمہ ہوگا، علاقے میں سیوریج کا سب سے بڑے سائز کے پائپس ڈالے جا رہے ہیں جس پر بیس کروڑ روپے کی لاگت آئے گی،دو نئے ٹیوب ویل بھی لگائے جا رہے ہیں، پچپن کروڑ روپے کی لاگت سے سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی جائے گی، جبکہ مجموعی طور پر چھتیس تا سینتیس ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے حلقے میں مکمل ہوں گے۔

انہوں نے مزید اعلان کیا کہ مناواں ہسپتال کو دوبارہ جنرل ہسپتال بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام کو صحت کی معیاری سہولتیں میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے،وہاں جنگ نہیں بلکہ قتلِ عام ہو رہا ہے، پاکستان اور آٹھ دیگر ممالک نے اسرائیل سے غزہ سے نکلنے کا مطالبہ کیا ہے، اس مسئلے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ نہ تو فلسطینی عوام کی خدمت ہے اور نہ ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔

اب امریکہ بھی اعتراف کر رہا ہے کہ اسرائیل میں ظلم ہو رہا ہے۔پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کررہا اس لئے اس پر ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے، اسرائیل کی سیاست لوگوں کو سچی بات نہیں بتا رہی۔ انہوںنے کہا کہ سی پیک ون ہو یا ٹو ہم نے سازشوں کا مقابلہ کیا اور سرخرو ہوئے لیکن اب بھی مسلسل سازش ہورہی ہے۔ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان فلسطین کا مسئلہ حل کرنے لگے ہیں تو کہتے ہیں سازش ہو رہی ہے، سازش کرنے والی قوتوں کا حکومت اور افواج پاکستان بھی مقابلہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں افواج پاکستان کی تنصیبات پر حملہ اچھی بات نہیں، ان شہدا ء کے خون کو ضائع نہیں ہونے دیں گے اور جن لوگوں نے کشمیر میں فوج پولیس یا رینجرز پر حملہ کیا ہے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کے تحت روضہ رسول ﷺ اور خانہ کعبہ کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔

سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا اور پاکستان پر حملہ سعودی عرب پر حملہ سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بڑھ رہا ہے اور امریکہ و ترکی کے صدور پاکستان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوامی خدمت کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں لاہور کے تمام حلقوں میں یکساں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ علاقے کے سیوریج، سڑکوں اور صاف پانی جیسے مسائل حل ہونا اب دور کی بات نہیں بلکہ حقیقت بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام نے ہمیشہ مسلم لیگ (ن)پر اعتماد کیا ہے اور ہم اس اعتماد کو عوامی خدمت سے پورا کریں گے۔ یو سی 175 سمیت پورے حلقے کی ترقی کے لیے مزید منصوبے بھی جلد شروع کیے جائیں گے۔ سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ عوامی مسائل حل کرنا ہی ہماری اولین ترجیح ہے اور یہ ترقیاتی کام آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر ایاز صادق نے کہا انہوں نے کہا کہ سازش ہو پر حملہ ہے اور رہا ہے ہو رہی رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری