Daily Sub News:
2026-07-24@05:53:56 GMT

پاکستان میں نیا پنشن سسٹم نافذ کردیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

پاکستان میں نیا پنشن سسٹم نافذ کردیا گیا

پاکستان میں نیا پنشن سسٹم نافذ کردیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 4 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے ”فیڈرل گورنمنٹ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن فنڈ اسکیم رولز 2024“ کے نام سے نیا پنشن نظام متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے روایتی پنشن سسٹم ختم کر کے نیا کنٹری بیوشن یعنی شراکتی نظام نافذ کیا جائے گا۔ یہ پاکستان کے پنشن ڈھانچے میں ایک بڑی اصلاح سمجھی جا رہی ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ اقدام 27 اگست 2025 کو منظور کیا گیا اور اب اسے تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور اداروں کو عمل درآمد کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
نیا نظام کیسے کام کرے گا؟
نئے پنشن سسٹم کے تحت وفاقی سرکاری ملازمین کو اب پنشن کے لیے خود بھی ہر ماہ رقم جمع کرانی ہوگی، جبکہ حکومت بھی ان کے ساتھ حصہ ڈالے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، حکومت (یعنی آجر) ہر ماہ ملازم کی قابلِ پنشن تنخواہ کا 12 فیصد حصہ جمع کرائے گی۔ جبکہ ملازم اپنی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ پنشن فنڈ میں جمع کرائے گا۔
اس طرح یہ دونوں رقوم ایک خاص فنڈ میں جمع ہوں گی، جسے مختلف سرمایہ کاری منصوبوں میں لگایا جائے گا۔ بعد میں جب ملازم ریٹائر ہوگا، تو اس فنڈ میں ہونے والا منافع ہی اس کی پنشن کی بنیاد بنے گا۔
افواجِ پاکستان کے لیے عمل درآمد بعد میں
ذرائع کے مطابق، فی الحال یہ نظام صرف سول ملازمین کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ افواجِ پاکستان کے لیے اس پر عمل درآمد کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا، اس لیے اس وقت ان کے لیے حکومت اور ملازمین دونوں کی شراکت کی شرح صفر رکھی گئی ہے۔

مقصد کیا ہے؟
وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اصلاح اس لیے متعارف کرائی گئی ہے تاکہ حکومت پر بڑھتے ہوئے پنشن کے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے، پنشن سسٹم کو دیرپا اور مالی طور پر مستحکم بنایا جا سکے اور پاکستان کے پنشن نظام کو عالمی معیار کے مطابق لایا جا سکے۔

گزشتہ چند برسوں میں حکومت پر پنشن کی ادائیگیوں کا بوجھ تیزی سے بڑھا ہے، جو ملکی بجٹ کا بڑا حصہ کھا رہی تھیں۔ اب نئے نظام کے ذریعے یہ خرچ آہستہ آہستہ کم ہوگا اور ملازمین کی ریٹائرمنٹ رقم ان کی اپنی جمع شدہ رقم اور منافع پر مبنی ہوگی۔

اداروں کو عمل درآمد کی ہدایت
وزارتِ خزانہ نے یہ نوٹیفکیشن آڈیٹر جنرل آف پاکستان، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (AGPR)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اور تمام بڑی وزارتوں جیسے دفاع، تعلیم، ریلوے، توانائی، آئی ٹی اور موسمیاتی تبدیلی کو بھیج دیا ہے تاکہ فوری عمل درآمد کیا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیربالاج ٹیپو کے قتل کیس کا مرکزی ملزم طیفی بٹ دبئی سے گرفتار ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے امیربالاج ٹیپو کے قتل کیس کا مرکزی ملزم طیفی بٹ دبئی سے گرفتار غزہ جنگ بندی کے قریب ہیں، فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے: وزیراعظم سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں وفاقی وزرا اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کے نکات سامنے آگئے خواجہ آصف نے مانچسٹر کیلئے پی آئی اے کی پروازوں کے آغاز کی نوید سنا دی اسلام آباد: آرچرڈ اسکیم میں تجاوزات ہٹانے کا حکم معطل، رہائشیوں اور سی ڈی اے کو نوٹس جاری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش