شکارپور حادثہ: جاں بحق 8 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، ہر آنکھ اشکبار
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
شکارپور میں گزشتہ رات پیش آنے والےافسوسناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے8 افراد کی نمازِ جنازہ آج کندن چورنگی پر ادا کر دی گئی، جہاں فضا سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔
نمازِ جنازہ میں سول سوسائٹی، عزیز و اقارب اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، تاہم افسوس کی بات یہ رہی کہ ڈپٹی کمشنر کے سوا کوئی منتخب نمائندہ جنازے میں شریک نہیں ہوا۔
غم سے نڈھال لواحقین نماز جنازہ کے دوران زار و قطار روتے رہے۔ مرحومین کو بعد ازاں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا، جہاں فضا انتہائی رقت آمیز تھی۔
یاد رہے کہ یہ دلخراش واقعہ گزشتہ رات اُس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار مزدا گاڑی بجلی کے کھمبے سے ٹکرا کر بے قابو ہوگئی اور سڑک کنارے سوئے ہوئے افراد پر چڑھ دوڑی۔ حادثے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔
حادثہ نہ صرف ایک خاندان کا صفایا کر گیا بلکہ پورے علاقے کو گہرے صدمے سے دوچار کر گیا ہے، جبکہ شہریوں کی جانب سے حکومت سے فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
---فائل فوٹوصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔
خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔
خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔