پشاور، صمود فلوٹیلا پر حملہ کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
جماعت اسلامی پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت صمود فلوٹیلا کے دیگر شرکاء کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف جامع مسجد درویش پشاور کینٹ سے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
پشاور، صمود فلوٹیلا پر صیہونی کارروائی کیخلاف جماعت اسلامی کی ریلی
اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت صمود فلوٹیلا کے دیگر شرکاء کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی کال پر جماعت اسلامی کے سابق رکن قومی اسمبلی اور صوبائی جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان اور ضلعی امیر بحراللہ خان ایڈوکیٹ کی قیادت میں نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد درویش پشاور کینٹ سے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جو خانہ فرہنگ ایران، پشاور کلب، چرچ روڈ اور ایئرپورٹ روڈ سے ہوتی ہوئی امریکن قونصلیٹ کے سامنے شمع چوک پہنچی، جہاں پر احتجاجی جلسے سے جماعت اسلامی کے قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز مظلومین غزہ کے لئے خوراک اور ادویات لے جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی نیوی نے عالمی قوانین کے خلاف ایک ایسے مقام پر حملہ کیا جو ان کی حدود سے باہر تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔