سیاحتی مقامات پرموسم سرما کی پہلی برفباری
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خنجراب : مشہور سیاحتی مقام پر موسم سرما کی پہلی برفباری، شدید برفباری کے باعث ملک کے بلند ترین پہاڑی مقام نے سفید چادر اوڑھ لی۔
ملک کے چند پہاڑی علاقوں میں موسم سرما کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ کے بلند پہاڑی علاقوں میں موسم سرما کی پہلی برفباری کے بعد موسم سرد ہو گیا۔
گلگت بلتستان میں پاک چین سرحدی علاقے خنجراب میں موسم سرما کی پہلی اور شدید برفباری ہوئی جس کے بعد علاقے نے سفید چادر اوڑھ لی۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے پہاڑوں پر بھی برفباری کے بعد شمالی علاقوں میں موسم سرما کے سیزن کا آغاز ہو گیا۔
کالام کے بلند پہاڑی علاقوں کے علاوہ ناران کے پہاڑوں پر بھی برفباری ہوئی۔ان علاقوں میں ہر سال ستمبر کے آخر سے موسم سرما کا آغاز ہو جاتا ہے۔دوسری جانب ملک میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کو تیار ہے۔
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا جس کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقو ں میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موسم سرما کی پہلی علاقوں میں
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔