شوبز انڈسٹری پھولوں کی سیج نہیں یہاں آنے والوں کو جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ ایسے ہی کچھ کڑوے سچ سینیئر اداکارہ فائزہ حسن نے بولے ہیں۔

باصلاحیت اداکارہ فائزہ حسن نے اپنے کیریئر کے ابتدائی کٹھن دنوں کے تلخ تجربات اور سخت مشکلات پر کھل کر بات کی ہے۔

ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ فائزہ حسن نے انکشاف کیا کہ شوبز میں قدم رکھتے ہی انھیں بار بار ریجیکشن کا سامنا کرنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ مجھ سے ڈیمانڈ کی گئی تھی کہ ناک کی پلاسٹک سرجری کرواؤ، وزن کم کرو حالانکہ میں تو دُبلی پتلی تھی، آج پرانے ڈرامے دیکھ کر لگتا ہے میں تو بالکل فٹ تھی۔

فائزہ حسن نے شوبز کے حسن کے معیار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب مارکیٹنگ ہے، جیسے صابن کی پیکنگ خوبصورت لگتی ہے تو لوگ خرید لیتے ہیں لیکن اگر اندر سے اچھا نہ نکلے تو دوبارہ کوئی نہیں خریدتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اداکاری میں بھی یہی اصول ہے، خوبصورتی ایک بار کام دلا سکتی ہے لیکن بار بار صرف اچھی پرفارمنس ہی کام آتی ہے۔

اداکارہ فائزہ حسن نے مزید بتایا کہ وہ جان بوجھ کر کم ڈرامے کرتی ہیں کیونکہ وہ صرف ایسے کردار قبول کرتی ہیں جو ان کے دل کو چھو جائیں۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ فائزہ حسن نے اپنی یکطرفہ محبتوں کے قصے بھی شیئر کیے انھوں نے کہا کہ ہاں، یکطرفہ محبت ہوتی ہے۔ میرے ساتھ تو کئی بار ہوا۔

وہ کچھ دیر کے لیے ماضی میں کھو گئیں اور مسکراتے ہوئے کہا کہ پہلی بار 17 یا 18 سال کی عمر میں کالج کے ایک لڑکے کو پسند کیا، پھر ہر تین چار ماہ بعد کسی نہ کسی پر دل آ جاتا تھا۔ اب تو گنتی بھی یاد نہیں۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: اداکارہ فائزہ حسن نے کہا کہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف