کالج میں ہر تین چار ماہ بعد کسی پر دل آجاتا، اب تو تعداد بھی یاد نہیں؛ فائزہ حسن
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
شوبز انڈسٹری پھولوں کی سیج نہیں یہاں آنے والوں کو جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ ایسے ہی کچھ کڑوے سچ سینیئر اداکارہ فائزہ حسن نے بولے ہیں۔
باصلاحیت اداکارہ فائزہ حسن نے اپنے کیریئر کے ابتدائی کٹھن دنوں کے تلخ تجربات اور سخت مشکلات پر کھل کر بات کی ہے۔
ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ فائزہ حسن نے انکشاف کیا کہ شوبز میں قدم رکھتے ہی انھیں بار بار ریجیکشن کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ مجھ سے ڈیمانڈ کی گئی تھی کہ ناک کی پلاسٹک سرجری کرواؤ، وزن کم کرو حالانکہ میں تو دُبلی پتلی تھی، آج پرانے ڈرامے دیکھ کر لگتا ہے میں تو بالکل فٹ تھی۔
فائزہ حسن نے شوبز کے حسن کے معیار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب مارکیٹنگ ہے، جیسے صابن کی پیکنگ خوبصورت لگتی ہے تو لوگ خرید لیتے ہیں لیکن اگر اندر سے اچھا نہ نکلے تو دوبارہ کوئی نہیں خریدتا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اداکاری میں بھی یہی اصول ہے، خوبصورتی ایک بار کام دلا سکتی ہے لیکن بار بار صرف اچھی پرفارمنس ہی کام آتی ہے۔
اداکارہ فائزہ حسن نے مزید بتایا کہ وہ جان بوجھ کر کم ڈرامے کرتی ہیں کیونکہ وہ صرف ایسے کردار قبول کرتی ہیں جو ان کے دل کو چھو جائیں۔
دلچسپ بات یہ رہی کہ فائزہ حسن نے اپنی یکطرفہ محبتوں کے قصے بھی شیئر کیے انھوں نے کہا کہ ہاں، یکطرفہ محبت ہوتی ہے۔ میرے ساتھ تو کئی بار ہوا۔
وہ کچھ دیر کے لیے ماضی میں کھو گئیں اور مسکراتے ہوئے کہا کہ پہلی بار 17 یا 18 سال کی عمر میں کالج کے ایک لڑکے کو پسند کیا، پھر ہر تین چار ماہ بعد کسی نہ کسی پر دل آ جاتا تھا۔ اب تو گنتی بھی یاد نہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: اداکارہ فائزہ حسن نے کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
گلگت:گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں متعدد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں معمولی فرق انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 ہے، جبکہ کم از کم پانچ حلقوں میں خواتین ووٹرز جیت اور ہار کا فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
دیامر-1 سب سے منفرد حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق موجود ہے۔
مزید پڑھیںگلگت بلتستان عام انتخابات؛ پنجاب پولیس کے 5ہزار اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے
گلگت بلتستان انتخابات، کیا نواز شریف فعال سیاست میں واپس آ رہے ہیں؟
دوسری جانب گلگت-2 میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان سب سے زیادہ فرق ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں مرد ووٹرز کی تعداد خواتین کے مقابلے میں 3 ہزار 829 زیادہ ہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ہے۔
انتخابی ماہرین کے مطابق گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 ایسے حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہیں۔ ہنزہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد 25 ہزار 588، غذر-2 میں 24 ہزار 945، گلگت-3 میں 24 ہزار 810 اور اسکردو-2 میں 24 ہزار 346 ہے۔
ادھر انتخابات میں خواتین کی سیاسی شرکت بھی نمایاں ہے اور 8 خواتین امیدوار مختلف حلقوں سے قسمت آزما رہی ہیں، جس سے انتخابی عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی ہوتی ہے۔