انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس حکومت نے ہمیں (کشمیریوں اور لداخیوں) کو جغرافیائی طور پر کاغذ پر تقسیم کر دیا ہو گا، لیکن انہوں نے ہمیں دکھ درد، تکالیف اور ظلم و جبر سے متحد کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سرینگر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے لداخ کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھلے ہی بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت نے کشمیر اور لداخ کو جغرافیائی طور پر تقسیم کیا ہو، لیکن اس کے ظلم و جبر اور دکھ درد نے ہمیں متحد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق روح اللہ مہدی کا یہ بیان ایک وائرل ویڈیو کے بعد سامنے آیا ہے جس میں لداخ کی ایک سکول ٹیچر کو روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور وہ بیان کر رہی ہیں کہ کس طرح سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرنے پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ایسا کرنے پرسزا دینے کے لئے انہیں دور دراز علاقوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔روح اللہ مہدی نے ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ جن مشکلات کو طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں وہ اب لداخ میں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس حکومت نے ہمیں (کشمیریوں اور لداخیوں) کو جغرافیائی طور پر کاغذ پر تقسیم کر دیا ہو گا، لیکن انہوں نے ہمیں دکھ درد، تکالیف اور ظلم و جبر سے متحد کر دیا ہے۔ کشمیر کے لوگ جو دکھ اور درد ایک طویل عرصے سے سہہ رہے تھے آج لداخیوں کو بھی ان کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری کبھی بھی کسی دوسرے معاشرے کے ساتھ اس طرح کی ناانصافی نہیں چاہتے تھے۔ ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ ہماری بات سنی جائے۔ جب ہم ناانصافی کا رونا روتے تھے تو باقی سب سوچتے تھے کہ یہ صرف کشمیریوں کے ساتھ ہو رہی ہے، ہمیں کبھی اس کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن آج لداخ سے لے کر کنیا کماری تک لوگوں کو آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر انہیں مصائب اور مشکلات کا سامنا ہے جو کشمیری بہت پہلے سے برداشت کر رہے ہیں۔

روح اللہ مہدی نے کشمیری عوام کی طرف سے لداخ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ میں لداخ میں اپنے ہم وطنوں کو یقین دلاتا ہوں، اگرچہ ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا تھا لیکن ہم آپ کو آپ کے جائز مقصد اور جدوجہد میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ وائرل ویڈیو میں جس پر روح اللہ مہدی کا بیان سامنے آیا ہے، لداخ کی ایک اسکول ٹیچر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ ملازمین کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ نہ کریں۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ جن لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا، انہیں سزا کے طور پر دور دراز علاقوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

.