گلگت میں امیر اہلسنت والجماعت قاضی نثار احمد کے قافلے پر فائرنگ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
گلگت میں امیر اہلسنت والجماعت قاضی نثار احمد کے قافلے پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ نگر کالونی، CPO چوک کے قریب پیش آیا۔ نامعلوم مسلح افراد نے اچانک قافلے کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے وقت قاضی نثار احمد گاڑی میں موجود تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق قاضی نثار احمد خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔تاہم قاضی نثار احمد کا ایک محافظ فائرنگ میں زخمی ہوا۔ زخمی محافظ کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ سرچ آپریشن کے دوران مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ دوسری جانب شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور عوامی حلقوں کی جانب سے مذمت کی جارہی ہے۔ گلگت شہر میں واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ مظاہرین نے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کردیا۔ مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی جانب سے قاضی نثار احمد سے اظہارِ یکجہتی کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔