Express News:
2026-06-03@02:26:03 GMT

امن کی جانب پہلا قدم

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

مشرق وسطی کی ڈرامائی پیش رفت محمد اسمعیل میرٹھی کے اس شعر پر صادق آتی ہے  ؎

یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا

کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا

جس تیزی سے یہ سب کچھ ہوا ہے، اس سے لگتا تو یہی ہے کہ سیٹی بجی اور کھیل شروع ہو گیا لیکن یہ معاملہ اس عورت کی تکلیف سے زیادہ مشکل تھا جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ماں بنتی ہے۔ یہ جنگ کیسے شروع ہوئی، اس کا کوئی جواز تھا یا نہیں، اس بحث کا یہ وقت نہیں کیوں کہ مسلم دنیا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح غزہ میں نسل کشی کا خاتمہ کیا جائے۔

اس جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف فریقوں کے ذہن میں مختلف فارمولے تھے۔ انسان دشمن اور طاقت ور جارح اسرائیل کا منصوبہ تھا کہ غزہ کو اسرائیل میں شامل کر لیا جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ اپنے کاروباری ذہن کے مطابق اس سرزمین کے بارے میں کچھ منصوبے رکھتے تھے جن کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً کرتے رہے ہیں۔ تیسرا اور اصل فریق حماس تھی جو خطے میں پیدا ہو جانے والے حالات کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہو چکی تھی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ کی قرارداد چھ بار ویٹو ہو چکی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ خون ریزی کو روکنے میں ہمیشہ کی طرح ناکام ہو چکا تھا۔ غزہ میں جنگ خون ریزی روکنے کے لیے سلامتی کونسل میں صرف ایک قرارداد ہی منظور ہو سکی، یہ اس وقت ہو سکا تھا جب پاکستان اپنی ٹرم پر اس ادارے کا غیر مستقل ممبر تھا۔ اس اجلاس کی صدارت کا اعزاز بھی پاکستان کے وزیر خارجہ کو حاصل ہوا تھا۔

یہ واحد قرارداد ہے جو اس ضمن میں اس ادارے نے منظور کی لیکن جنگ بندی کا ہدف اس کے باوجود دور رہا۔ بہ ظاہر دکھائی یہ دیتا ہے کہ جنگ بندی کے سلسلے میں اصل پیش رفت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہوئی جب آٹھ مسلمان ملکوں کی قیادت کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ میٹنگ ہوئی۔ ان ملکوں میں پاکستان ، ترکی، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، انڈونیشیا اور اردن شامل تھے۔ یہ اجلاس فیصلہ کن ثابت ہوا لیکن اس سے قبل جو کچھ ہوا، وہ اگر نہ ہوتا تو اس اجلاس کی نوبت ہی نہ آتی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے متصل قبل خطے میں ایک اور تبدیلی رونما ہوئی۔ یہ تبدیلی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ تھا جس نے خطے میں طاقت کا توازن ہی بدل کر رکھ دیا۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس معاہدے کے بارے میں توقع ظاہر کی ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ مسلم نیٹو کی بنیاد ثابت ہو گا کیوں کہ اس میں بہت سے دیگر مسلمان ملک بھی شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسلامی بلاک کے قیام کے ضمن میں یہ پیش رفت معمولی نہیں لیکن یہ مستقبل کا معاملہ ہے۔ سردست اس معاہدے کے فوری اثرات پیش نظر ہیں۔

پاکستان سعودی عرب معاہدے کو پاکستان میں عوامی سطح پر مختلف تناظر میں دیکھا گیا۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا پر جو مباحث ہوئے، وہ خوش گوار نہیں تھے لیکن جب ایران نے بھی اس معاہدے کا خیر مقدم کر دیا اور خود بھی اس میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی تو شکوک وشبہات کا غبار چھٹ گیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ وہ شاہ کلید ہے جس نے بڑے بڑے منصوبوں کو پلٹ کر رکھ دیا۔ یہ منصوبے وہی ہیں جن کی طرف اس جائزے کے شروع میں اشارہ ہوا ہے یعنی غزہ کا اسرائیل میں انضمام یا صدر ٹرمپ کی کاروباری خواہشات کی تکمیل کے لیے اہل فلسطین کو وطن بدر کر کے غزہ کی تعمیر و ترقی۔

سورہ آل عمران میں فرمایا گیا ہے کہ ایک تدبیر دشمن نے کی اور ایک تدبیر اللہ نے کی۔ یقیناً وہی بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی ہی بہتر جانتے ہیں لیکن محسوس یہی ہوتا ہے کہ پاک سعودی معاہدہ وہی تدبیر ثابت ہوا جس نے دشمن کے منصوبے الٹ کر رکھ دیے۔

مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدلنے والا یہی منصوبہ ہے جو گیم چینجر ثابت ہوا اور فیصلہ سازوں یعنی امریکا نے جنگ بندی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ بیس نکاتی ٹرمپ امن فارمولے کی تمہید ثابت ہوا۔

پاکستان سمیت مسلم دنیا کے آٹھ اہم ترین ممالک جنگ بندی کے سلسلے میں جب امریکا کو انگیج کر رہے تھے یا اس سے انگیج ہو رہے تھے، کیا ائیسولیشن میں ایسا کر رہے تھے یا وہ حماس سے بھی رابطے میں تھے؟ عین ان ہی دنوں اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ایک مسلمان ملک کے ذریعے حماس نے یقین دلایا ہے کہ وہ جنگ بندی کی اس کوشش کو ڈی ریل نہیں کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم دنیا کی یہ سرگرمی نہایت سوچی یا سمجھی تھی جس میں حماس کی مشاورت بھی شامل تھی۔

ٹرمپ کے بیس نکاتی فارمولے کے بارے میں شکوک و شبہات پہلی بار اس وقت پیدا ہوئے جب پاکستان میں یہ معاملہ داخلی سیاست کا شکار ہوا۔ اس ضمن میں بہت سے اعتراضات ہوئے اور حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی۔ حکومت اس دباؤ کا شکار ہوئی جب اس نے یہ کہا کہ ٹرمپ کے جاری کردہ نکات وہ نہیں ہیں جن پر اتفاق رائے ہوا تھا۔ اس موقع پر دیگر مسلمان ممالک پاکستان کی مدد کو بھی آئے۔

اس صورت حال میں ایک اور مشکل مرحلہ اس وقت پیدا ہوا جب صدر ٹرمپ نے حماس کو اتوار تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے ناقابل یقین تباہی کی دھمکی دی۔ ٹرمپ ایسے معاملات میں ناقابل یقین رہے ہیں اس لیے خدشہ محسوس کیا گیا کہ کہیں غزہ کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو جائے لیکن حماس نے اس موقع پر دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ ردو بدل کے ساتھ ٹرمپ امن منصوبے کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:

۱۔ جنگ بندی کی یہ کوششیں حماس کے اعتماد کے ساتھ ہو رہی تھی۔ جن میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔

۲۔امن فارمولا ایک ہی تھا جس پر حماس سمیت سب متفق تھے۔ دنیا کے ہر کام یاب فارمولے میں ایڈجسٹمنٹ کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہ گنجائش اس فارمولے میں بھی تھی۔ اس سلسلے میں ٹرمپ سمیت سب نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حماس کا مستقبل کیا ہو گا؟ مسئلہ فلسطین بلکہ فلسطین کی آزادی کا دار و مدار اسی سوال سے وابستہ ہے۔

امن فارمولے کا نکتہ نمبر 19 اس کی وضاحت کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کی خود مختار ریاست کے قیام کے لیے مذاکرات کا راستہ کھولا جائے گا۔ اس نکتے کو نکتہ نمبر 8 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو صورت حال واضح ہوتی ہے۔ اس نکتے میں معاہدے کو تسلیم کرنے والوں کو امان دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین میں اب سیاسی جدوجہد شروع ہو گی۔ جناب خورشید احمد ندیم نے کبھی حسرت کے ساتھ کہا تھا کہ کاش فلسطین کو بھی قائد اعظمؒ جیسا کوئی راہ نما ملا ہوتا۔ حماس نے امن فارمولا تسلیم کر کے یہ راستہ کھول دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دفاعی معاہدہ اس کا مطلب یہ اقوام متحدہ کے بارے میں ثابت ہوا پیدا ہو کے ساتھ ثابت ہو کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام