ورلڈ بنک ٹیم کا دورہ اپر کوہستان ، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر اطمینان کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
اسلام آباد(خبرنگار) ورلڈ بنک دورہ اپر کوہستان کے دوران داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (ڈی ایچ پی پی)میں سماجی اور ماحولیاتی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جو پاکستان کے پائیدار ترقی کے عزم اور مضبوط چینی شراکت داری کی عکاسی ہے گوادر پرو کے مطابق ورلڈ بینک کے سوشل اور انوائرنمنٹل مشن کے ایک وفد نے اس منصوبے کا دورہ کیا ڈی ایچ پی پی کے مطابق، ٹیم نے اب تک کی گئی پیش رفت کو سراہا اور زور دیا کہ سماجی و ماحولیاتی وعدوں کو انجینئرنگ اور تعمیراتی مراحل کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جائے دورے کے دوران ڈی ایچ پی پی کی سوشل ری سیٹلمنٹ اینڈ انوائرنمنٹ یونٹ نے ماہرین اور چینی ٹھیکیداروں کے ہمراہ وفد کو آباد کاری ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ترقی کے اقدامات پر بریفنگ دی ورلڈ بینک ٹیم نے تعمیراتی مقامات کا بھی معائنہ کیا تاکہ زمینی سطح پر حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے مشن نے آبادکاری کے منصوبوں پر بروقت عملدرآمد، مقامی کمیونٹیز سے بامعنی روابط، اور ماحولیاتی نگرانی کے مؤثر نظام پر زور دیا یہ رواں سال کا دوسرا دورہ تھا اس سے قبل اپریل 2025میں بھی ایک جائزہ مشن نے کمیونٹی انگیجمنٹ اور بین الاقوامی معیارات پر عملدرآمد کو سراہا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔