گلگت ‘ عالم دین ہائیکورٹ جج کی گاڑیوں پر فائرنگ ‘ 5افراد زخمی بنوں ، اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
گلگت+ بنوں (نوائے وقت رپورٹ+نیٹ نیوز) گلگت میں نامعلوم دہشت گردوں نے ممتاز عالم دین اور ہائی کورٹ کے جج کی گاڑیوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوگئے۔ جبکہ بنوں میں سکیورٹی اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ گلگت بلتستان شمس لون نے بتایا پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے نامعلوم دہشگردوں کی فائرنگ سے ممتاز عالم دین مولانا قاضی نثار احمد، ڈرائیور اور گارڈ کے ساتھ مجموعی طور پر 5 افراد زخمی ہو گئے تاہم تمام زخمیوں کی حالت تسلی بخش ہے۔ وزیر داخلہ کاکہنا ہے دوسرا واقعہ دوپہر کو سٹی ہسپتال کے قریب رونما ہوا جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے ہائیکورٹ کے سینئر جج ملک عنایت الرحمٰن کی گاڑی پر فائرنگ کی تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ انہوں نے واضح کیا کسی کو علاقے کے امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دہشت گردوں کو کچل دیا جائے گا جبکہ علاقے کی ہم آہنگی کو تباہ کرنے والے سازشی عناصر کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔ دوسری جانب، صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا ہے خطیب مرکزی جامع مسجد اہلسنت مولانا قاضی نثار احمد کی گاڑی پر فائرنگ اس وقت کی گئی جب ان کی گاڑی سینٹرل پولیس آفس کے سامنے سے گزر رہی تھی۔ حملے کے نتیجے میں مولانا قاضی نثار احمد، ان کے دو سکیورٹی گارڈ اور ڈرائیور زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے حملہ آوروں کے زخمی حالت میں پکڑے جانے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔ فائرنگ کے واقعات کے بعد گلگت شہر میں خوف وہراس پھیل گیا اور شہر کی تمام مارکیٹیں اور دکانیں بند ہو گئیں جس سے سڑکیں سنسان اور ویران ہوگئیں۔ پولیس کے اہم افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا حملہ آوروں کے زیر استعمال دو گاڑیاں چھوڑ کر فرار ہونے کی معلومات ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان اور گورنر سید مہدی شاہ نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ حالات کو خراب کرنے کی سازش ہے، جلد دہشت گردوں کو گرفتار کر کے نشان عبرت بنایا جائے گا۔ خیبر پی کے ضلع بنوں کے قریب نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ بنوں پولیس کے ترجمان کاشف نواز نے بتایا نامعلوم افراد نے میران شاہ روڈ پر ایوب فیول سٹیشن کے قریب سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ انہوں نے مزید بتایا لاش اور زخمی اہلکار کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنوں منتقل کیا گیا جبکہ پولیس کی ایک ٹیم کو جائے وقوعہ پر بھیجا گیا تاکہ معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سکیورٹی اہلکار اہلکار شہید پر فائرنگ
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔