امریکی شطرنج چیمپئین کے ہاتھوں بھارتی چیمپئین کی تذلیل، بھارتیوں کو مرچیں لگ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
بین الاقوامی شطرنج کے حال ہی میں ہونے والے چیک میٹ ٹورنامنٹ میں امریکی شطرنج چیمپئین ہیکارُو ناکامورا نے بھارت کے عالمی چیمپئین ڈی گُکیش کو اپنے شاندار کھیل سے شکست دے دی۔ میچ کے اختتام پر ناکامورا نے گکیش کی بساط سے ’بادشاہ‘ کو اٹھا کر تماشائیوں کی جانب پھینک دیا۔ ناکاموروکی اس حرکت نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کردیا اور یہ واقعہ بھارتی شائقین کے لئے شدید غصے کا باعث بن گیا۔
چیک میٹ ٹورنامنٹ کا پہلا مرحلہ امریکا آہلنڈ میں ہوا جہاں امریکا نے بھارت کو پانچ میں سے پانچ میچز میں شکست دے کر اپنی بالادستی کا مظاہرہ کیا۔ اس دوران ناکامورا نے گکیش کے خلاف بے مثال کھیل پیش کیا اور بالآخر کامیابی حاصل کی۔ میچ ختم ہونے پر ناکامورا نے گکیش کا بادشاہ اٹھایا اور بڑے جوش و خروش سے اسے تماشائیوں میں پھینک دیا۔ گکیش بھی خود کچھ پریشان اور حیران دکھائی دیے۔
That moment when @GMHikaru Nakamura turned around a lost position and checkmated World Champion Gukesh – picking up and throwing Gukesh’s king to the crowd, celebrating the 5-0 win of Team USA over Team India!
Video: @adityasurroy21 pic.
— ChessBase India (@ChessbaseIndia) October 5, 2025
اس رویّے پر بھارتی شائقین چراغ پا ہوگئے اور ان کی طرف سے شدید تنقید کی گئی۔ اگرچہ یہ عمل اچانک اور بے ساختہ معلوم ہوا، لیکن بہت سے مداحوں نے اسے بے عزتی اور غیر ضروری حرکت قرار دیا۔
جب بھارتی شائقین نے ہیکارو ناکامورا پر تنقید شروع کی تو مقابلے میں شریک ایک اور کھلاڑی ’لیوی روزمین‘ نے وضاحت دی کہ یہ سب پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔
ان کے مطابق، دونوں ٹیموں کو میچ سے قبل بتایا گیا تھا کہ شائقین کا جوش بڑھانے کے لیے ڈرامائی انداز، بادشاہ پھینکنے یا مہرے گرانے جیسے مظاہرے کی اجازت ہے۔ روزمین نے مزید کہا کہ ’بس بات یہ ہے کہ ہیکارو جیت گیا، اور بعد میں اُس نے بیک اسٹیج گوکیش سے بات کر کے وضاحت بھی کی کہ یہ سب شو کا حصہ تھا۔‘
اس کے ساتھ ہی کچھ نے تبصرہ کیا کہ گوکیش نے تحمل کا مظاہرہ کرکے اچھا کیا اور کسی ردِعمل کا اظہار نہیں کیا۔
ناکامورا نے بعد میں اس عمل کے بارے میں کہا کہ انہوں نے شروع سے ہی پلان بنا رکھا تھا کہ جیتنے کی صورت میں گوکیش پھینکیں گے، چونکہ یہ ڈرامائی ‘بلٹ’ گیم تھی، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ فینز کو انجوائے کرایا جائے۔
شطرنج کی دنیا میں اس معاملے پر سوشل میڈیا پر تاحال بحث ایک تنازع کی شکل میں جاری ہے۔ ان مقابلوں کا دوسرا دور بھارت میں منعقد ہوگا دیکھتے ہیں وہاں کھیل کی دنیا میں کون کس کو شکست کی دنیا میں پھینکتا ہے، جلد ہی دونوں ٹیمیں دوبارہ مدِ مقابل ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ناکامورا نے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز