ٹرائی نیشن سیریز، کرکٹ شائقین کو اعلیٰ درجے کا کھیل دیکھنے کو ملیگا، وزیراعظم شہبازشریف
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)ٹرائی نیشن سیریز سے کرکٹ کے شائقین کو اعلیٰ درجے کا کھیل دیکھنے کو ملے گا۔ وزیراعظم شہبازشریف نےٹرائی نیشن سیریزمیں شریک ٹیموں کےاعزاز میں ظہرانہ دیا،پاکستان، سری لنکا اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑی ظہرانے میں شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم نےکہا تینوں ٹیموں نےسیریز میں شرکت کرکےجس جذبےاورلگن مظاہرہ کیا،وہ قابلِ ستائش ہے،تمام کھلاڑی اپنے اپنے ملک کی بہترین نمائندگی کر رہے ہیں،کھلاڑی اسپورٹس مین اسپرٹ کی ایسی مثال قاائم کریں جو نوجوان نسل کیلئےمشعل راہ ہو۔
وزیراعظم نےمزیدکہا چیئرمین پی سی بی کی سربراہی میں بورڈ تمام میچزبہترین انتظامات کےساتھ کروا رہا ہے،پاکستان میں مسلسل بین الاقوامی کرکٹ ملک کے مثبت تشخص اورامن واستحکام کا ثبوت ہے، ٹرائی نیشن سیریز سے کرکٹ کے شائقین کو اعلیٰ درجے کا کھیل دیکھنے کو ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔