جعلی دستاویزات اسکینڈل، فیفا نے ملائیشین فٹ بال ایسوسی ایشن پر جرمانہ اور 7 کھلاڑی معطل کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ملائیشیا کے فٹبال میں بڑا بحران کھڑا ہو گیا ہے جہاں فیفا نے قومی ٹیم کے 7 کھلاڑیوں کی معطلی کے بعد فٹبال ایسوسی ایشن آف ملائیشیا کے اندرونی نظام کی باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فیفا کے مطابق ان کھلاڑیوں نے مبینہ طور پر جعلی یا تبدیل شدہ دستاویزات استعمال کرکے ملائیشیا کی نمائندگی کے لیے اہلیت حاصل کی تھی، جس کے بعد انہیں 12 ماہ کے لیے معطل کردیا گیا۔
یہ تمام کھلاڑی ایشین کپ 2027 کے کوالیفائر میں جون میں ہونے والے میچ میں ویتنام کے خلاف ملائیشیا کی 4-0 کی جیت میں شامل تھے۔
فیفا اپیل کمیٹی نے حکم دیا ہے کہ فوری طور پر ایف اے ایم کے اندرونی آپریشنز کی تحقیقات کی جائیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ دستاویزات میں جعل سازی کا ذمہ دار کون ہے، اور یہ بھی جانچا جائے کہ آیا ایسوسی ایشن کے اندرونی احتساب اور گورننس کا نظام مؤثر ہے یا نہیں۔
مزید یہ بھی طے کیا جائے گا کہ ایف اے ایم اہلکاروں کے خلاف اضافی کارروائی کی ضرورت ہے یا نہیں۔
اس معاملے نے ملک بھر میں شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے، جہاں شائقین اور قانون سازوں نے ایف اے ایم سمیت نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ اور وزارتِ داخلہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ ماہ ایف اے ایم نے اپنے سیکریٹری جنرل کو معطل کرکے ایک آزاد کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔
فیفا نے اس جعلسازی پر ملائیشیا کی فٹ بال ایسوسی ایشن پر 3 لاکھ 50 ہزار سوئس فرانک جرمانہ بھی عائد کیا ہے، جبکہ حال ہی میں ان کی اپیلیں بھی مسترد کردی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فیکونڈو گارسز، گیبریل اروچا، روڈیگو ہولگادو، امانول ماچوکا، جواو فیگیریدو، جون ایرازابل اور ہیکٹر ہیول جو سب بیرونِ ملک پیدا ہوئے کو فٹ بال ایسوسی ایشن کے زیرِ نگرانی ملائیشین شہریت دی گئی۔
کھلاڑیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے دادا دادی یا نانا نانی ملائیشیا میں پیدا ہوئے تھے تاہم فیفا نے اصل سرٹیفکیٹس حاصل کرکے یہ ثابت کیا کہ ایف اے ایم کی طرف سے جمع کرائے گئے سرٹیفکیٹس میں واضح تضادات پائے گئے۔
سماعت کے دوران کھلاڑیوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے شہریت کی درخواست کے کاغذات پڑھے ہی نہیں تھے جن میں یہ بیان بھی شامل تھا کہ وہ 10 سال سے ملائیشیا میں مقیم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن فیفا نے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔